Brailvi Books

مردے کے صدمے
15 - 36
 نہیں آیا۔   (شَرْحُ الصُّدُور ص ۱۱۱) 
ساتھ جگری یار بھی نہ آئیگا			تو اکیلا قبر میں رہ جائیگا
مال،  دنیا کا یہیں رَہ جائیگا			ہر عمل اچّھا بُرا ساتھ آئیگا
مالِ دنیا دو جہاں میں ہے وبال
کام آئیگا نہ پیشِ ذُوالجلال
جنّت کا باغ یا جہنَّم کا گڑھا! 
	اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب، دانائے غُیُوب، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا فرمانِ عبرت نشان ہے:  ’’ قَبْر  یا تو جنّت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنَّم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا ۔ ‘‘ ( تِرمِذی ج۴ ص۲۰۸ حدیث۲۴۶۸) 
	حضرتِ سیِّدُنا سُفیان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الحَنَّان فرماتے ہیں :  جو شخصقَبْر  کا ذِکرزیادہ کرے وہ اسے جنّت کے باغوں میں سے ایک باغ پاتا ہے اور جو اس کی یادسے غافل ہوتا ہے،  وہ اسے جہنَّم کے گڑھوں میں سے ایک گڑھا پاتا ہے۔  (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ج۵ص۲۳۸) 
بے شُمارلوگ مغموم ہیں 
	حضرتِ سیِّدُناثابِت بُنانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّ بَّانِیفرماتے ہیں :  میں قبرِستان میں داخِل ہوا جب وہاں سے نکلنے لگا تو بلند آواز سے کسی نے کہا:  اے ثابِت!  ان قبر والوں کی خاموشی سے دھوکہ نہ کھانا ان میں بے شمار لوگ مغموم ہیں ۔   (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ج۵ص۲۳۸)