بھائیوں کے بعد دنیا میں رَہنے والے ! کیا تیرے لئے ہمارے مُعامَلے میں کوئی عبرت نہ تھی؟کیا ہمارے تجھ سے پہلے (دنیا سے) چلے جانے میں تیرے لئے غور وفکر کا کوئی مقام نہ تھا؟کیا تو نے ہمارے سلسلۂ اعمال کا ختم ہونا نہ دیکھا؟ تجھے تو مُہْلَت تھی تو نے وہ نیکیاں کیوں نہ کرلیں جو تیرے بھائی نہ کرسکے۔ ‘‘ زمین کا گوشہ اسے پکار کر کہتا ہے: ’’ اے دنیائے ظاہر سے دھوکا کھانے والے ! تجھے ان سے عبرت کیوں نہ ہوئی جو تجھ سے پہلے یہاں آچکے تھے اور انہیں بھی دنیا نے دھوکے میں ڈال رکھا تھا۔ ‘‘ (اِحیاءُ الْعُلوم ج۵ ص۲۵۳)
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! حقیقت یہ ہے کہ ہر مرنے والا مرتے ہی گویایہ پیغام دیتا چلا جاتا ہے کہ جس طرح میں مَر گیا ہوں آپ کو بھی مرنا پڑ جائیگا، جس طرح مجھے منوں مِٹّی تلے دفن کیاجانے والا ہے اسی طرح تمہیں بھی دفن کیا جا ئے گا۔ ؎
جنازہ آگے بڑھ کے کہہ رہا ہے اے جہاں والو!
مِرے پیچھے چلے آؤ تمہارا رہنُما میں ہوں
میرے بال بچّے کہاں ہیں !
حضرتِسیِّدُنا عَطاء بن یَسار عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارسے روایت ہے: جب میِّت کوقَبْر میں رکھا جاتا ہے توسب سے پہلے اس کا عمل آ کر اس کی بائیں ران کو حَرَکت دیتا اور کہتا ہے: میں تیرا عمل ہوں ۔ وہ مُردہ پوچھتا ہے : میرے بال بچّے کہاں ہیں ؟ میری نعمتیں ، میری دَولتیں کہاں ہیں ؟ تو عمل کہتا ہے: یہ سب تیرے پیچھے رَہ گئے اور میرے سوا تیری قَبْر میں کوئی