دفنانے والوں کومُردہ دیکھتا ہے
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! غور فرمائیے! گناہوں بھری زندَگی گزار کر مرنے والے کیلئے کس قَدَر درد ناک معاملہ ہو گا اور جب قَبْر میں وہ سب کچھ دیکھ، سُن اور سمجھ رہا ہو گااس وَقت اُس پر کیا گزر رہی ہوگی! اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے محبوب ، دانائے غُیُوب ، مُنَزَّہٌ عَنِ الْعُیُوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَکا فرمان عبرت نشان ہے: مُردے کو اِس بات کی پہچان ہوتی ہے کہ اُسے کون غسل دے رہا ہے اور کون اس کو اُٹھا رہا ہے نیز اسے قبر میں کون اُتارتا ہے ۔ (مُسْنَد اِمام اَحمَد بن حنبل ج۴ ص۸ حدیث ۱۰۹۹۷ )
بے کسی کا دن
آہ ! آہ! آہ! جب قَبْر میں اُتار ا جارہا ہوگا اُس وقت کیا بِیت رہی ہوگی! حضرتِ سیِّدُنا ابوذَرغِفاری رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنے فرمایا: کیا میں تمہیں اپنی بے کسی کا دن نہ بتاؤں ؟یہ وہ دن ہے جب مجھے قَبْر میں تنہا اُتار دیا جائے گا ۔ (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ج۵ص۲۳۷)
گو پیشِ نظر قبر کا پُر ہَول گڑھا ہے افسوس مگر پھر بھی یہ غفلت نہیں جاتی
پڑوسی مُردوں کی پُکار
حُجَّۃ الاسلام حضرتِ سیِّدُناامام محمدبن محمد بن محمد غزالی عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الوالی نَقْل فرماتے ہیں : جب (گناہ گار) مُردے کوقَبْر میں رکھ دیتے ہیں اور اُس پر عذاب کا سلسلہ شُروع ہوجاتا ہے تو اسکے پڑوسی مُردے اُس سے کہتے ہیں : ’’ اے اپنے پڑوسیوں اور