صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کا قَبْر کے تعلُّق سے خوفِ خدا مُلا حَظہ ہو ۔ چُنانچِہ حضرت سیِّدُنا بَراء بن عازِب رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہ فرماتے ہیں ، ہم سرکارِ مدینہ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ کے ہَمراہ ایک جنازے میں شریک تھے تو آپ صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمَ قَبْر کے کَنارے پر بیٹھے اوراتنا روئے کہ مِٹّی بھیگ گئی۔ پھر فرمایا: ’’ اِس کے لئے تیّاری کرو۔ ‘‘ ( اِبن ماجہ ج ۴ ص ۴۶۶حدیث ۴۱۹۵ )
قَبْر کا پیٹ
حضرتِ سیِّدُنا حسن بن صالِح رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہجب قبرِستان سے گزر تے تو فرماتے: اے قبرو! تمہارا ظاہِر توبَہُت اچّھا ہے لیکن مصیبت تمہارے پیٹ میں ہے۔ (اِحْیَاءُ الْعُلُوْم ج۵ص۲۳۸)
ہائے موت
حضرتِ سیِّدُنا عطاء سُلَمی رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی عادتِ کریمہ تھی کہ جب رات ہوتی تو قبرِستان کی طرف نکل جاتے اور فرماتے: اے اہلِ قُبور ! تم مرگئے ہائے موت! تم نے اپنے عمل دیکھے ہائے رے عمل! پھر فرماتے : ہائے! ہائے ! کل ’’ عطا ‘‘ بھیقَبْر میں ہوگا، ہائے ! کل عطا بھی قَبْر میں ہوگا۔اسی طرح روتے دھوتے ساری رات گزار دیتے ۔ (ایضاً)
اندھیری قبر کا دل سے نہیں نکلتا ڈر
کروں گا کیا جو تو ناراض ہو گیا یارب!
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد