رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہسے دُعائیں لے کر خوشی خوشی اپنے گھر پہنچے ۔ اس کرامت کو سن کر بے شمار کفّار نے آآکر سیِّدُنا غوثِ ا عظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَمکے دستِ حق پرست پر اسلام قَبول کیا۔ (سلطانُ الاذکار فی مَناقب غوثِ الابرار، لشاہ محمد بن الہمدنی)
نکالا ہے پہلے تو ڈُوبے ہوؤں کو
اور اب ڈوبتوں کو بچا غوثِ اعظم (ذوقِ نعت)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
کیا بندہ مُردہ زندہ کرسکتا ہے؟
میٹھے میٹھے اسلامی بھائیو! بے شک موت وحیات اللہ عَزَّوَجَلَّ کے اختیار میں ہے لیکن اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے کسی بندے کو مُردے جِلانے کی طاقت بخشے تو اس کے لیے کوئی مُشکِل بات نہیں ہے اور اللہ عَزَّوَجَلَّ کی عطا سے کسی اورکو ہم مُردہ زندہ کرنے والا تسلیم کریں تو اس سے ہمارے ایمان پر کوئی اثر نہیں پڑتا ، اگرشیطان کی باتوں میں آکر کسی نے اپنے ذِہن میں یہ بٹھا لیا ہے کہ اللہ عَزَّوَجَلَّ نے کسی اورکومُردہ زندہ کرنے کی طاقت ہی نہیں دی تو اُس کا یہ نظریہ یقینا حکمِ قراٰنی کے خلاف ہے دیکھئے قراٰنِ پاک حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکے مریضوں کو شِفا دینے اورمُردے زندہ کرنے کی طاقت کا صاف صاف اِعلان کررہاہے۔ جیساکہ پارہ 3 سُوْرَۃ اٰلِ عِمْرٰن کی آیت نمبر 49 میں حضرت سیِّدُنا عیسیٰ روحُ اللّٰہ عَلٰی نَبِیِّناوَعَلَیْہِ الصَّلٰوۃُ وَالسَّلَامکا یہ ارشاد