Brailvi Books

مُنّے کی لاش
8 - 18
 تشریف لے گئے، وہاں ایک بُڑھیا کو دیکھا جو زارو قِطار رورہی تھی۔   ایک مُرید نے بارگاہِ غوثیّت میں عرض کی:  یامُرشِدی!   اِس ضَعیفہ کا اِکلوتا خُوبروبیٹا تھا، بے چاری نے اُس کی شادی رَچائی دُولہا نکاح کر کے دُلہن کو اِسی دریا میں کَشتی کے ذَرِیعے اپنے گھر لارہا تھا کہ کَشتی اُلَٹ گئی اور دُولہا دُلہن سَمیت ساری بارات ڈوب گئی ۔   اس واقِعے کو آج بارہ برس گزرچکے ہیں مگر ماں کا جگر ہے ،    بے چاری کا غم جاتا نہیں ہے ،    یہ روزانہ یہاں دریا پر آتی اوربارات کو نہ پاکر رودھو کر چلی جاتی ہے ۔   حُضُور غوثُ الاعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکو اِس ضَعیفہ  (یعنی بڑھیا)  پر بڑا تَرس آیا، آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے اللہ عَزَّوَجَلَّکی بارگاہ میں دعا کے لیے ہاتھ اُٹھا دئیے ،    چند مِنَٹ تک کچھ بھی ظُہُور نہ ہوا، بے تاب ہوکر بارگاہِ الٰہی عَزَّوَجَلَّ میں عرض کی: یا اللہ عَزَّوَجَلَّ !    اس قَدَر تاخیر کیوں ؟ارشاد ہوا:   ’’ اے میرے پیارے!   یہ تاخیر خلافِ تقدیر وتدبیر نہیں ہے، ہم چاہتے تو ایک حکمِ کُنْ سے تمام زمین وآسمان پیدا کردیتے مگر بَمُقْتضَائے حِکمت چھ دن میں پیدا کئے، بارات کو ڈوبے 12 سال بِیت چکے ہیں ،   اب نہ وہ کَشی باقی رہی ہے نہ ہی اس کی کوئی سُواری، تمام انسانوں کا گوشت وغیرہ بھی دریائی جانور کھاچکے ہیں ،    ریزے ریزے کو اَجزائے جسم میں اِکٹھّا کروا کر دوبارہ زندَگی کے مَرحَلے میں داخِل کردیا ہے،  اب ان کی آمد کا وقت ہے‘‘ ابھی یہ کلام اِختتام کو بھی نہ پہنچا تھا کہ یکایک وہ کَشتی اپنے تمام تر سازوسامان کے ساتھ مَع دُولہادُلہن وبراتی سطحِ آ ب پر نُمُودار ہوگئی اور چند ہی لمحوں میں کَنارے آلگی، تمام باراتی سرکارِبغداد