غوثُ الاعظم کا کُنواں
ایک بار بغداد ِ مُعلّٰی میں طاعون کی بیماری پھیل گئی اور لوگ دھڑا دھڑ مرنے لگے۔ لوگوں نے آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکی خدمت میں اِس مصیبت سے نَجات دلانے کی درخواست پیش کی۔ فرمایا: ’’ہمارے مدرَسے کے ارد گرد جو گھاس ہے وہ کھاؤ اور ہمارے مدرَسے کے کُنوئیں کا پانی پیو، جو ایسا کرے گا وہ اِنْ شَآءَاللہ عَزَّوَجَلَّ ہر مَرَض سے شِفاپائے گا۔ ‘‘ چُنانچِہ گھاس اورکُنوئیں کے پانی سے شِفا ملنی شروع ہوگئی یہاں تک کہ بغداد شریف سے طاعون ایسا بھاگا کہ پھر کبھی پلٹ کر نہ آیا۔ (تفریحُ الخاطرفی مناقب الشیخ عبدالقادر ص۴۳)
’’طبقاتِ کبری‘‘میں غوثِ اعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہ کا یہ ارشاد بھی نقل کیا گیا ہے: ’’جس مسلمان کا میرے مدرَسے سے گزر ہوا قِیامت کے روز اس کے عذاب میں تخفیف ہوگی۔ ‘‘ (اَلطَّبَقاتُ الْکُبریٰ للشعرانی الجزء الاوّل ص۱۷۹دارالفکربیروت) اللہ عَزَّوَجَلَّ کی ان پر رَحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری بے حساب مغفرت ہو۔
گناہوں کے اَمراض کی بھی دوا دو
مجھے اب عطا ہو شِفا غوثِ اعظم
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
ڈوبی ہوئی بارات
ایک بار سرکار بغداد حُضُور سیِّدُنا غوثُ الاعظم رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہدریا کی طرف