والد ِمرحوم کو رات خواب میں دیکھا، وہ کہہ رہے تھے: ’’بیٹا! میں عذاب ِقبر میں مبتلاہوں ، تو سیِّدُنا شیخ عبدُالقادِرجِیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِیکی بارگاہ میں حاضِر ہوکر میرے لیے دُعا کی درخواست کر۔ ‘‘ یہ سن کر سرکارِبغدادحُضُور غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے اِستفسار فرمایا: کیا تمہارے ابّاجان میرے مدرَسے (مَد۔ رَ۔ سے) سے کبھی گزرے ہیں ؟ اس نے عرض کی: جی ہاں۔ بس آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہخاموش ہوگئے ۔ وہ نوجوان چلا گیا۔ دوسرے روز خوش خوش حاضِرِ خدمت ہوا اورکہنے لگا: یامرشِد! آج رات والِدِ مرحوم سبز حُلّہ (یعنی سبز لباس ) زیبِ تن کئے خواب میں تشریف لائے ، وہ بے حد خوش تھے ، کہہ رہے تھے: ’’بیٹا ! سیِّدُنا شیخ عبدُالقادِر جِیلانی قُدِّسَ سِرُّہُ الرَّ بَّانِی کی بَرَکت سے مجھ سے عذاب دُورکردیا گیا ہے اوریہ سبز حُلّہ بھی ملاہے۔ میرے پیارے بیٹے! تو ان کی خدمت میں رہا کر۔ ‘‘ یہ سن کر آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا : میرے رب عَزَّوَجَلَّ نے مجھ سے وعدہ فرمایا ہے کہ جو مسلمان تیرے مدرَسے سے گزرے گا اُس کے عذاب میں تَخفیف (یعنی کمی) کی جائے گی۔ (بَہْجَۃُ الاسرارص۱۹۴)
نزع میں ، گورمیں ، میزاں پہ سرِپل پہ کہیں
نہ چھٹے ہاتھ سے دامانِ معلّٰی تیرا (حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
مُردے کی چیخ وپُکار
ایک مرتبہ بارگاہ ِ غوثیَّت مآب میں حاضِر ہوکر لوگوں نے عرض کی: عالی جاہ ! ’’بابُ الْاَزَج‘‘ کے قبرِستان میں ایک قَبْر سے مُردے کے چیخنے کی آوازیں آرہی ہیں ۔ حُضُور !