Brailvi Books

مُنّے کی لاش
16 - 18
 اوراسے بھی قتل کرڈالاہے!   خوف کے مارے اُس کی آنکھ کھل گئی، گھبراکر اُٹھا تو وہاں کوئی ڈاکو وغیرہ نہ تھا۔   اب اُسے یا دآیا کہ اشرفیوں کی تھیلی اُس نے فُلاں جگہ رکھی ہے، جھٹ وہاں پہنچاتوتھیلی مل گئی۔   خوشی خوشی بغداد شریف واپَس آیا۔   اب سوچنے لگا کہ پہلے غوثُ الاعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے ملوں یا شیخ حمّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد سے!   اِتِّفاقاً راستے میں ہی سیِّدُنا شیخ حمّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد مل گئے اور دیکھتے ہی فرمانے لگے: ’’پہلے جا کر غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم سے ملو کہ وہ محبوبِ رَبّانی ہیں ،    اُنہوں نے تمہارے حقّ میں 17 بار دُعا مانگی تھی تب کہیں جاکر تمہاری تقدیر بدلی جس کی میں نے خبر دی تھی، اللہ عَزَّ وَجَلَّنے تمہارے ساتھ ہونے والے واقعے کو غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی دُعاکی بَرَکت سے بیداری سے خواب  میں منتقل کردیا۔  ‘‘ چُنانچِہ وہ بارگاہِ غوثیت مَآب میں حاضِرہوا۔   غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے دیکھتے ہی فرمایا:  واقِعی میں نے تمہارے لیے17مرتبہ دعامانگی تھی ۔   مزید فرمایا :  میں نے تمہارے بارے میں 17 در 17 سے لے کر 70مرتبہ تک دُعا مانگی تھی۔     (بَہْجَۃُ الاسرار ص ۶۴) اللہ عَزَّوَجَلَّکی اُن پر رَحمت ہو اور اُن کے صدقے ہماری  بے حساب مغفرت ہو۔  
غرض آقا سے کروں عرض کہ تیری ہے پناہ
       بندہ مجبور ہے خاطِر پہ ہے قبضہ تیرا   (حدائقِ بخشش شریف)  
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد۔ 
عذاب قبر سے رہائی
	ایک غمگین نوجوان نے آکر بارگاہِ غوثیَّت میں فریاد کی:  حضور!  میں نے اپنے