بارگاہ سے نہ ہٹوں گا جب تک اپنے ایک ایک مُرید کو داخلِ جنّت نہ کروالوں ۔ (ایضاً)
مریدوں کو خطرہ نہیں بحرِ غم سے
کہ بیڑے کے ہیں ناخدا غوثِ اعظم (ذوقِ نعت)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
عظیم الشّان کرامت
ابوالمظفرحسن نامی ایک تاجِر نے حضرتِ سیِّدُناشیخ حمّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَاد کی بارگاہ میں حاضِر ہوکر عرض کی: حُضُور ! میں تجارت کیلئے قافِلے کے ہمراہ مُلکِ شام جارہا ہوں ، آپ سے دُعا کی درخواست ہے۔ سیِّدُنا شیخ حمّاد عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْجَوَادنے فرمایا: ’’آپ اپنا سفر ملتوی کردیجئے، اگر گئے تو ڈاکو سارا مال بھی لوٹ لیں گے اورآپ کو قتل بھی کرڈالیں گے ۔ ‘‘ تاجِر یہ سن کر بڑا گھبرایا، اِسی پریشانی کے عالم میں واپَس آرہا تھا کہ راستے میں حضور غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم مل گئے، پوچھا کیوں پریشان ہیں ؟اُس نے سارا واقِعہ کہہ سنایا۔ آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے ارشاد فرمایا: پریشان نہ ہو ں شوق سے ملکِ شام کا سفر کیجئے، اِنْ شَآءَاللہ عَزَّ وَجَلَّ سب بہتر ہوجائے گا ۔ چُنانچِہ وہ قافلے کے ساتھ روانہ ہوگیا، اُسے کاروبار میں بَہُت نفع ہوا، وہ ایک ہزار۱۰۰۰ اشرفیوں کی تھیلی لیے مُلکِ شام کے شہر ’’ حَلب‘‘ پہنچا۔ اِتِّفاقاًوہ اَشرفیوں کی تھیلی کہیں رکھ کر بھول گیا، اِسی فکر میں نیند نے غَلبہ کیا اورسوگیا ۔ اُس نے ایک ڈراؤنا خواب دیکھا کہ ڈاکوؤں نے قافلے پر حملہ کر کے سارا مال لوٹ لیا ہے