Brailvi Books

مُنّے کی لاش
13 - 18
 سے ایک بُزُرگ یہاں کے مشہور مجذُوب گل محمد شاہ صاحِب کے ہمشکل تھے۔    چُنانچِہ ان مجذوب بُزُرگ کو بلوایا گیا، وہ تشریف لے آئے اوراُنہوں نے آتے ہی اوّل تا آخِر سارا واقِعہ لفظ بہ لفظ بیان کردیا ۔   لوگ حُضُور غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی یہ زندہ کرامت سن کراَش اَش  کر اُٹھے۔   رَنجیب سنگھ نے مقدَّمہ خارِج کرتے ہوئے ان دونوں میاں بیوی کو اِنعام واکرام دے کر رخصت کیا۔    (الحقائق فی الحدائق ص۹۵)  
الاماں قہر ہے اے غوث وہ تیکھا تیرا
                                  مر کے بھی چین سے سوتا نہیں مارا تیرا   (حدائقِ بخشش شریف) 
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب!   	صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
70 بار اِحتلام
	حضرتِ سیّدنا غوث اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کا ایک مرید ایک ہی رات میں نئی نئی عورتوں کے سَبَب ستَّر بارمُحْتَلِم ہوا۔  صُبح غسل سے فارِغ ہوکر اپنی پریشانی کی فریاد لیکر اپنے مرشدِ کریم حضور غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کی خدمتِ باعَظَمت میں حاضر ہوا ۔   قبل اِس کے کہ وہ کچھ عرض کرے ،    سرکارِ بغداد حضورِ غوثِ اعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم نے خود ہی فرمایا:  رات کے واقِعے سے مت گھبراؤ ،    میں نے رات لوحِ محفوظ پر نظر ڈالی تو تمہارے بارے میں ستَّر مختلف عورَتوں کے ساتھ زِنا کرنا مقدَّر تھا،  میں نے بارگاہ ِالٰہی عَزَّوَجَلَّ میں التجا کی کہ وہ تیری تقدیر کو بدل دے اوران گناہوں سے تیری حفاظت فرمائے ۔    چُنانچِہ ان سارے