کو منزِل پر پہنچا دو گے ۔ اُس نے کہا کہ یہاں جنگل میں ضامِن کہاں سے لائوں ؟ عورت بول اٹھی: مسلمان گیارہویں والے بڑے پِیر صاحِب کوبَہُت مانتے ہیں ، تم انہیں کی ضَمانت دے دو۔ وہ اگرچِہ غوثُ الاعظم عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم کے تَصَرُّفات کا قائل نہیں تھا مگر یہ سوچ کر کہ ہاں کہہ دینے میں کیا جاتاہے، اُس نے ہاں کہہ دی۔ جُوں ہی عورت گھوڑے پر سُوارہوئی ، اُس ظالِم نے تلوار سے اس کے شوہرکی گردن اُڑادی اورگھوڑے کو ایڑ لگادی، عورت غم سے نڈھال اورسَہمی ہوئی باربار مڑکر پیچھے دیکھے جارہی تھی۔ اُس نے کہا کہ بار بار پیچھے دیکھنے سے کچھ حاصِل نہیں ہوگا، تمہاراشوہر اب واپَس نہیں آسکتا۔ اُس نے کپکپاتی ہوئی آواز میں کہا: میں تو بڑے پیر صاحِب کو دیکھ رہی ہوں ۔ اِس پر اُس نے ایک قَہقَہہ لگاکر کہا کہ بڑے پِیر صاحِب کو تو فوت ہوئے کئی سال گزرچکے ہیں ، اب بھلاوہ کہاں سے آسکتے ہیں ! اتناکہنا تھا کہ اچانک دو بُزُرگ نُمُودار ہوئے ان میں سے ایک نے بڑھ کر تلوار سے اس بدعقیدہ عاشِق کا سراُڑا دیا پھر عورت کومَع گھوڑے کے اُس جگہ لائے جہاں وہ ہند و کٹا ہوا پڑا تھا، دونوں میں سے ایک بُزُرگ نے کٹا ہوا سر دھڑ سے ملا کر کہا: ’’قُمْ بِاِذْنِ اللّٰہِ‘‘ یعنی اُٹھ اللہ عَزَّوَجَلَّ کے حکم سے ۔ وہ ہندو اُسی وَقت زندہ ہوگیا۔ وہ دونوں بُزُرگ غائب ہوگئے ۔ یہ دونوں میاں بیوی مقتول کے گھوڑے پر سُوار ہوکر گھر لوٹ آئے ۔ مقتول کے وارِثوں نے گھوڑا پہچان کر رَنجیت سنگھ کے کورٹ میں دونوں میاں بیوی پرکیس کردیا کہ ہمارا آدَمی غائب ہے اورگھوڑا اِن کے پاس ہے ، شاید اِن لوگوں نے ہمارے آدَمی کو قتل کردیاہے ۔ پیشی ہوئی ، ان میاں بیوی نے جنگل کا ساراواقِعہ کہہ سنایا اورکہا کہ ان دونوں بُزُرگوں میں