کی نظر کی عَظَمت وشان دیکھئے! آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں :
نَظَرْتُ اِلٰی بِلَادِ اللّٰہِ جَمْعًا
کَخَرْدَلَۃٍ عَلٰی حُکْمِ التِّصَالٖ
(یعنی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے تمام شہرمیری نظر میں اس طرح ہیں جیسے ہتھیلی میں رائی کا دانہ )
میرے آقا اعلیٰ حضرت رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہبارگاہِ غوثِیّت مآب میں عرض کرتے ہیں :
وَرَفَعْنَا لَکَ ذِکْرَ ک کا ہے سایہ تجھ پر
بول بالا ہے تِرا ذکر ہے اُونچا تیرا (حدائقِ بخشش شریف)
صَلُّوا عَلَی الْحَبِیْب! صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلٰی مُحَمَّد
بد عقیدہ قاتل کی سزا
اب وِصال شریف کے طویل عرصے کے بعد رَنجیت سنگھ کے دورِحکومت میں ہندوستان میں رُونُما ہونے والا ایک ایمان افروز واقِعہ پڑھیے اورجھومئے : ایک نام نِہادمسلمان جو کراماتِ اولیاء کا مُنکِر تھا ، شُومئی قسمت سے ایک شادی شُدہ ہِندوانی کو دل دے بیٹھا۔ ایک بار ہِندواپنی بیوی کومَیکے پہنچانے کے لیے گھر سے باہَر نکلا ، اُدھر اُس بدبخت عاشِق پرشَہوت نے غَلَبہ کیا ۔ چُنانچِہ اُس نے ان کا پیچھا کیا اور ایک سُنسان مقام پر دونوں کو گھیر لیا، وہ دونوں پیدل تھے اور یہ گھوڑے پرسُوا رتھا، اس نے جھوٹ مُوٹ ہمدردی کا اظہار کرتے ہوئے سُواری کی پیشکش کی مگر ہِندو نے انکار کیا، وہ اصرار کرنے لگا کہ اچّھا عورت ہی کو پیچھے بیٹھنے کی اجازت دے دوکہ یہ بے چاری تھک جائے گی ، ہِندو کو اس کی نیّت پر شُبہ ہوچلا تھا لہٰذا اُس نے کہا کہ تم ضَمانت دو کہ کسی قسم کی خیانت کئے بِغیر میری بیوی