نقل کیا گیا ہے:
وَ اُبْرِئُ الْاَكْمَهَ وَ الْاَبْرَصَ وَ اُحْیِ الْمَوْتٰى بِاِذْنِ اللّٰهِۚ-
ترجَمۂ کنزالایمان: اورمیں شفا دیتا ہوں مادر زاد اندھوں اورسفید داغ والے (یعنی کوڑھی) کو اور میں مردے جِلاتاہوں اللہ (عَزَّوَجَلَّ) کے حکم سے۔
اُمّید ہے کہ شیطان کا ڈالا ہوا وَسوَسہ جڑ سے کٹ گیا ہوگا ، کیوں کہ مسلمان کا قراٰنِ پاک پر ایمان ہوتا ہے اور وہ حکمِ قراٰنِ کریم کے خلاف کوئی دلیل تسلیم کرتاہی نہیں ۔ بَہرحال اللہ عَزَّوَجَلَّ اپنے مقبول بندوں کو طرح طرح کے اختیارات سے نوازتا ہے اور بَعطائے خداوندی ان سے ایسی باتیں صادِر ہوتی ہیں جو عقلِ انسانی کی بُلندیوں سے وَراء ُ الوَرا ہوتی ہیں ۔ یقینا اہلُ اللّٰہ کے تَصَرُّفات واختیارات کی بلندی کو دنیا والوں کی پروازِ عقل چھو بھی نہیں سکتی ۔
سائنسدان کی نظر
دَورِ حاضر کا سب سے بڑا سائنسدان ’’ آئن اسٹائن ‘‘ کہہ گیا ہے: ’’ میں نے ریڈیو دُوربین کے ذَرِیعے ایک ایسا کَہکَشاں تو دیکھ لیا ہے جو زمین سے دوکروڑ نوری سال دُور ہے یعنی روشنی جو فی سیکنڈایک لاکھ چھیاسی ہزارمِیل طے کرتی ہے، وہاں دو کروڑ سال میں پہنچے گی مگر جہاں تک کائنات کی سرحدیں معلوم کرنے کا تعلُّق ہے اگر میری عمر ایک مِلْیَن یعنی دس لاکھ برس بھی ہوجائے تب بھی دریافت نہیں کرسکتا۔ ‘‘
سائنسدان کے برعکس خدائے رحمن عَزَّوَجَلَّ کے ولی حُضُور غوثِ اعظمعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَکْرَم