Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
98 - 274
 پاتاہے۔ کیا تم دنیا کا ارادہ کرنے والوں کو نہیں  دیکھتے کہ وہ بھی کسی بلند مرتبے تک اسی وقت پہنچتے ہیں جب اپنے جذبات، مال اور اولاد سے توجہ ہٹا کر صرف مقصد پر نظر رکھتے ہیں۔مثلاً بادشاہ بننےکےخواہشمندجنگیں کرتےاوردشمنوں سےمقابلےکرکےانہیں ہلاک کر دیتےیا اپنا تابِعِ فرمان بنالیتےہیں۔پھر کہیں جاکر انہیں بادشاہت واقتدار حاصل ہوتا ہے ۔یوں ہی  تاجر لوگ خشکی اور تری کے نہایت خطرناک سفر اختیار کرتے ہیں، اپنی جانوں اور اپنے مالوں کو مشرق سے مغرب اور مغرب سے مشرق تک لے جاتے ہیں اور دلوں کو نَفْع یا نقصان کے لئے تیار کرتے ہیں،تب جا کر بڑے مَنافع، زیادہ مال اور اَعلیٰ و قیمتی اشیاء کے مالک بنتے ہیں اوران کے برعکس چھوٹے اورعام دوکاندار دل کے کمزور اور عزم کے کچے ہوتے  ہیں،ان میں دور دراز کا سفرکرنے کی ہمت وجرأت نہیں ہوتی بلکہ حقیر ما ل کے ساتھ ہی دل لگائے رکھتے ہیں،ایسے لوگ ساری عمر مکان سے دُکان  اور دُکان سے مکان تک محدود رہتے ہیں۔یہی وجہ ہے کہ ایسے لوگ بادشاہوں والے بڑے مرتبے تک پہنچ نہیں پاتے  اور نہ ہی وہ بڑے تاجروں کی طرح کافی سرمایہ جمع کرپاتے ہیں،ایسوں کواگر بازار میں اپنے سامان پر ایک دِرْہم کا نفع ہوجائے توان کے لئے یہ کثیرہے  کیونکہ انہوں نے تھوڑی شے سے اپنے دل کو جوڑ رکھا ہے۔
خدائی زمین کے بادشاہ:
	یہ تودنیااوراہْلِ دنیاکاحال ہےجبکہ توکُّل اختیارکرنےاوردل کوتمام تعلُّقات سےتوڑنے والےجب توکل میں پختہ ہوجاتےاورحقیقی توکل کو پال لیتے ہیں تو وہ ہر چیز سے فارِغ ہو کر خدا کی عبادت میں مشغول ہوجاتےہیں،مخلوق سے کِنارہ کَشی کو اپنا دَسْتُوربنا لیتے ہیں، لَقْ و دَق صحراؤں میں، پہاڑوں کی چوٹیوں پر اور خطرناک گھاٹیوں میں زندگی بسر کرنا ان کے لئے آسان ہوجاتاہے۔ایسےلوگ سب سےطاقتوراورباہمت ہوجاتےہیں درحقیقت یہی باہمت