کرنے والے وہ لوگ جن کے دل دنیاوی وسوسوں سے جڑے رہتے ہیں جبکہ عبادت تو دل اور بدن کی مکمل فراغت کی محتاج ہوتی ہے اور فراغت توکل کرنے والوں ہی کو نصیب ہوتی ہے بلکہ جس کا اعتقاد کمزرو ہواسے جب تک کچھ حاصل نہ ہو جائے توہ مطمئن نہیں ہوتا اور نہ ہی اس کا دنیا وآخرت کا مقصود پورا ہوتا ہے۔
بے باک اورمتوکل:
دنیامیں دوہی آدمیوں کاکام پوراہوتاہے:(۱)بےباک وناعاقبت اندیش اور (۲)توکل کرنے والا۔ پہلے کا اس لئے کہ وہ بھرپورقوت اور ایسے دل کی جرأت سے کاموں کا ارادہ کرتاہے جو کسی روکنے والےپر توجہ دیتا ہے نہ کمزوری پیدا کرنے والے کسی خیال پر دھیان دیتا ہے،یوں اُس کی تقدیر میں لکھے اُس کے کام پورے ہوجاتے ہیں ، وہ سمجھتا ہے میں اپنی بے باکی وجرأت سے کامیاب ہوا ہوں حالانکہ ایسا نہیں ہوتا بلکہ یہ تو وہ ہے جو اُس کے لئے لکھا جاچکا جس تک اُس نے لازمی پہنچنا تھا پس اسے تھکاوٹ ومَشَقَّت ہی کافائدہ ہوتا ہے۔
دوسراتوکل کرنےوالےکاکام پوراہوتاہےکیونکہ وہ قوّت،بصیرت اوراللہ عَزَّ وَجَلَّ کے وعدہ وضمانت پر کامل وپختہ یقین رکھتے ہوئے کاموں کا ارادہ کرتا ہے نہ کسی انسان کی طرف متوجہ ہوتاہےکہ وہ اسےخوف میں ڈالےاورنہ کسی شیطان کی طرف کہ وہ اسے وسوسہ ڈالے تو یوں وہ مَقاصِد ومَطالِب میں کامیاب وکامران ہو جاتا ہے ۔
پست ہمت لوگ:
جہاں تک تعلُّق ہے اُس شخص کاجو عقیدے میں کمزور ہو تو اس کی یہ کمزوری اسے بلند اُمور کی طرف بڑھنے سے روک دیتی ہے اور اس کی ہمت ٹوٹ جاتی ہے ۔پہلے تو وہ کسی بڑے کام کا ارادہ ہی نہیں کرتا اور اگر کر بھی لے تو وہ اس میں نہ کامیاب ہوتاہےاورنہ ہی مکمل کر