دواپرہیزضرورفائدہ دیتاہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکےپیارےحبیبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے ارشادفرمایا:”اَصْلُ کُلِّ دَوَاءٍ اَلْحِمْیَۃُ یعنی ہر دوا کی اصل پرہیز ہے۔“(1)منقول ہے کہ اہْلِ ہندمریض کا زیادہ تر علاج پرہیز سے کرتے ہیں،ان کے ہاں مریض کوچند دنوں تک کھانے،پینےاورگفتگوکرنےسےروک دیاجاتاہےتووہ تندرست ہوجاتاہے۔پس تم پر خوب واضح ہو گیا کہ تقوٰی ہی ہر معاملے کی اصل ہے اوراُس کے اہل اونچے درجہ والے لوگ ہیں لہٰذا تمہیں اس معاملے میں خوب کوشش اور توجہ کرنی چاہیے۔
٭…٭…٭…٭…٭…٭
چوتھی گھاٹی: عوارض کا بیان
اےعبادت کےطلبگار!تجھ پران عوارض کودورکرنالازم ہےجواللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت سےروکتےہیں۔وہ عوارض چارہیں:(۱)…رزق(۲)…ہلاکت خیزخیالات(۳)…تقدیرکافیصلہ اور (۴)…تکالیف وسختیاں۔
پہلا عارضہ: رزق
تمہارا نفس تم سے رزق طلب کرتا ہے اس سے بچنے کی صورت توکُّل ہے تاکہ تم عبادت کے لئے فارغ ہو جاؤ اور نیکی کرنا تمہارے لئے آسان ہو جائے کیونکہ جو توکل نہیں کرتا وہ یقینی طور پر حاجت، مصلحت یا رزق کے سبب عبادتِ الٰہی سے دور ہو جاتا ہے۔ ان چیزوں میں اس کی مشغولیت ظاہری بھی ہوتی ہے اور باطنی بھی، ظاہری تو اس طرح کہ اپنے بدن سے محنت مَشَقَّت کر کے کمائے گا جیسا کہ عام لوگوں کا حال ہے اور باطنی اس طرح کہ دل میں طور طریقے سوچے گااور ارادے کرے گاجیسا کہ عبادت میں کوشش
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…تفسیر القرطبی،سورة الاعراف،تحت الآية:۳۱ ،۴/۱۳۹