Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
95 - 274
کوشش ہوتی ہے کہ دل غَیْرُاللہ کی جانب مائل نہ ہو، پیٹ میں حلال بھی ضرورت سے زائد داخل نہ ہو، زبانیں بے فائدہ گفتگو سے بچی رہیں اور آنکھیں لغو وبے کار چیزوں کی طرف نہ اُٹھیں۔چنانچہ ایک صاحبِ بصیرت نے فرمایا:” ہر برائی سے خاموشی کو اپنا روزہ بنا لواور تکلیف پہنچانے سے رکنے کو اپنا صدقہ بنا لو کیونکہ تم اس سے افضل شے کا صدقہ کرسکتے ہو نہ اس سے پاکیزہ شے کا روزہ رکھ سکتے ہو۔“
اِجتناب اِکتساب سے بڑھ کر ہے:
	اس بات کوجاننےکےبعداب اگرتم نےدونوں حصوں یعنی اکتساب اوراجتناب کو حاصل کرلیا تو تمہارا معاملہ مکمل اور مراد پوری ہو گئی اور تم نے سلامتی اور غنیمت  دونوں کو پالیا اور اگر تم ایک ہی حصے تک پہنچ سکو تو پھر جانب اجتناب کو اختیار کرو سلامت رہو گے اگرچہ غنیمت حاصل نہ کر سکو ورنہ اکتساب واجتناب دونوں جانبوں کا خسارہ اُٹھانا پڑے گا اور(صرف جانِبِ”اکتساب“اختیار کرنے پر)تمہیں طویل دن کا روزہ بھی کوئی فائدہ نہیں دے گا کہ  تم اسے (دکھاوے پر مشتمل)ایک ہی بات کہہ کر فاسد کر دو گے۔یہی وجہ ہے کہ حضرت سیِّدُناابن عباسرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُمَاسے پوچھا گیا: آپ ان دو شخصوں کے بارے میں کیا فرماتے ہیں جن میں سے ایک بہت نیکیاں اور بہت برائیاں کرتا ہے جبکہ دوسرا نیکیاں بھی کم کرتا ہے اور برائیاں بھی کم کرتا ہے؟ فرمایا: دونوں ہی برابر ہیں۔
ہر دوا کی اصل پرہیز ہے:
	اس کی مثال مریض کی طرح  ہے کیونکہ اس کےعلاج کے بھی دو حصے ہوتے ہیں ایک حصہ دوا اور دوسرا پرہیز، اگر دونوں جمع ہو جائیں تو مریض بالکل ٹھیک اور تندرست ہو جاتا ہے ورنہ کم ازکم پرہیز تو لازمی ہے کیونکہ بغیر پرہیز کے دوا فائدہ نہیں دیتی مگربغیر