قیامت میں ملامت کی وجہ :
شرم وعار کا سبب یہ ہے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّنے بندے کو اپنی عبادت کےلئے پیدا فرمایا ہے پس وہ ہر جہت سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا بندہ ہے اوربندے پر لازم ہے کہ ممکنہ حد تک ہر لحاظ سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت کرے اور اپنے افعال کا محاسبہ رکھے۔اب اگر اس نے ایسا نہ کیا اور اپنی خواہش کو ترجیح دی اور دنیا میں عبادت پر قدرت کے باوجود اپنے ربّعَزَّ وَجَلَّکی عبادت سے غافل ہو گیا تواس کی بنا پر وہ اپنے مالک سے ملامت وعار ہی کا مستحق ٹھہرے گا۔
نفس کی اصلاح اور اُسےتقوٰی کی لگام دینےکےمتعلق جوباتیں ہیں یہاں اس کا خلاصہ بیان کردیا گیا ہے تو تم ان کی رعایت کرو اور انہیں اچھی طرح محفوظ کرلودونوں جہاں میں خیرِکثیرہاتھ آئےگی۔اِنْ شَآءَ اللہ عَزَّ وَجَلَّاوراللہ عَزَّ وَجَلَّاپنےفضل وکرم سےحفاظت فرمانے والاہےاوراس گھاٹی کوعبورکرناتمہیں دہشت زدہ نہ کرےکیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّکی مدد ونصرت سےمعاملہ آسان ہوجاتاہے۔دعاہےاللہ عَزَّ وَجَلَّتمہیں اورہمیں توفیق عطافرمائےبےشک وہ ہر مہم کے لئے کافی ہے۔
عبادت کے دو حصے،اکتساب اور اجتناب:
اےعزیزجان!خوب سمجھ لےعبادت کےدوحصےہیں:(۱)اکتساب اور (۲)اجتناب۔ اکتساب سےمرادہےنیک کام کرنااوراجتناب سےمرادہےگناہوں اور برائیوں کو چھوڑ دینا اوریہی تقوٰی ہےاور اِکتساب کےمقابلےمیں اِجتناب ہر حال میں بہتر اور اشرف وافضل ہے ۔ یہی وجہ ہے کہ عبادت وریاضت اور مجاہدہ کا ابتدائی درجہ طےکرنےوالےاپنی پوری توجہ”اکتساب“پررکھتےہوئےدن روزےاوررات عبادت میں بسرکرتےہیں جبکہ عبادت گزاروں میں انتہائی درجہ والے اصحابِ بصیرت ”اجتناب “پرمتوجہ رہتے ہیں ، ان کی یہی