ہے اور ثواب وتعریف کا باعث ہے۔ چنانچہاللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
اُولٰٓئِکَ لَہُمْ نَصِیۡبٌ مِّمَّا کَسَبُوۡاؕ(پ۲،البقرة:۲۰۲)
ترجمۂ کنزالایمان:ایسوں کوان کی کمائی سے بھاگ ہے۔
اللہ عَزَّوَجَلَّکےمحبوب،دانائےغیوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:جس نےسوال سےبچنے،پڑوسی کی مدد کرنے اور اپنے اہل وعیال کی پرورش کے لئے حلال دنیا طلب کی وہ قیامت کے دن اس حال میں آئے گا کہ اس کا چہرہ چودھویں کے چاند کی طرح چمک رہا ہو گا۔(1)
درست نیت پر انعام:
بیان کردہ انعام اس وقت ہےجب وہ صرف نیک مقاصدکےلیےحلال طلب کرے اورتوفیق دینے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہے،لہٰذا بہتر یہ ہے کہ وہ عبادتِ الٰہی پر مدد طلب کرنے کاقصدکرےاوردل میں یہ بات لائےکہ اگراس سےاللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت پرقوّت حاصل کرنا نہ پایا جاتا تو میں یہ حلال بھی استعمال نہ کرتا۔ اس قصدوارادےکےصحیح ہونےکی نشانی یہ ہےکہ وہ بقدرِحاجت سےتجاوزنہ کرے۔
حساب وحبس کی وضاحت:
حساب سے مراد یہ ہے کہ قیامت کے دن اس سے پوچھا جائے گا: کہاں سے کمایا؟ کہاں خرچ کیا اور کس ارادے سے خرچ کیا ؟ اور حبس سے مراد یہ ہے کہ حساب ہونے تک اُسے جنت سے روک کر میدان محشر کی ہولناکیوں اور دہشتوں میں بے لباس اور پیاسا چھوڑدیا جائے گا اوریہ بڑی مصیبت ہے ۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مصنف ابن ابی شیبة،كتاب البيوع،باب فی التجارةوالرغبة فیھا،۵/۲۵۸،حدیث:۷