Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
92 - 274
نَبَاتُہٗ ثُمَّ یَہِیۡجُ فَتَرٰىہُ مُصْفَرًّا ثُمَّ یَکُوۡنُ حُطَامًا ؕوَ فِی الْاٰخِرَۃِ عَذَابٌ شَدِیۡدٌ(۲۷،الحدید:۲۰)
کی طرح جس کااگایاسبزہ کسانوں کوبھایاپھرسوکھا کہ تواسےزرددیکھےپھرروندن(پامال کیا ہوا)ہوگیا اورآخرت میں سخت عذاب ہے۔
	رسولُ اللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”جومباہات،بڑائی،فخراوردکھاوے کی غرض سےدنیاکاحلال طلب کرےوہاللہ عَزَّ وَجَلَّسےاس حال میں ملےگاکہ ربّ تعالیٰ اس پرغضبناک ہوگا۔“(1)یہاں وعیداس لئےفرمائی کہ وہ اپنےدل سےاِس کاارادہ کرتا ہے۔
حلال پر حساب ،حرام پر پکڑ:
	دوسری صورت یہ ہے کہ وہ جائزومباح کو محض اپنی شہوتِ نفس کو پورا کرنے کے لیےاستعمال کرے،یہ بھی بُراہےاورحبس یعنی روزِقیامت روکےجانےاورحساب کامستحق ہوگا۔اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
ثُمَّ لَتُسْـَٔلُنَّ یَوْمَئِذٍ عَنِ النَّعِیۡمِ ٪﴿۸﴾(پ۳۰،التکاثر:۸)
ترجمۂ کنزالایمان:پھربےشک ضروراس دن تم سے نعمتوں سے پرسش ہو گی۔
	سرورِدوجہاں،رحمَتِ عالمیاںصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”حَلَالُہَا حِسَابٌ وَّحَرَامُہَا عِقَابٌ یعنی دنیا کے حلال پر حساب اور حرام پر پکڑ ہے۔“(2)
چودھویں کے چاند جیساچہرہ:
	تیسری صورت یہ ہے کہ مباح کو بحالَتِ مجبوری صرف اتنا استعمال کیا جائے جس سے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کی عبادت پر قوت حاصل ہو سکے اور اسی پر قناعت کی جائے تو یہ بھلائی اور نیکی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مصنف ابن ابی شیبة،كتاب البيوع،باب فی التجارةوالرغبة فیھا،۵/۲۵۸،حدیث:۷
2…مسند الفردوس،۲/۲۹۷،حدیث:۶۲۳۹