عُذر پیش کرکے روٹی کھاتے:
حضرت سیِّدُناوُہَیْب بن وَرْدعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْاَحَدکبھی ایک،کبھی دواورکبھی تین دن خود کوبھوکارکھتےپھرایک روٹی لیتےاوربارگاہِ الٰہی میں عرض کرتے:الٰہی!توجانتاہےمیں بغیرغذا کےعبادت کی طاقت نہیں رکھتا، مجھے کمزوری کا ڈر ہےاگرایسا نہ ہوتا تو میں یہ بھی نہ کھاتا۔ الٰہی! اگر اس میں کوئی ناپاک یا حرام شے ملی ہے تو میری پکڑ نہ فرمانا۔ اس کے بعد آپ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہروٹی کو پانی میں تر کرکے کھا لیتے۔
یہ بلند رُتبہ اصحابِ تقوٰی کا طریقہ ہے اور جو ان سے کم مرتبہ ہیں انہیں اپنی طاقت کے مطابق احتیاط ضروری ہے، جس قدر ان کی احتیاط ہو گی اسی قدرتقوٰی سے حصہ پائیں گے پس تم جتنی کوشش کرو گے اتنا پاؤ گے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّنیک عمل کرنے والے کا اجر ضائع نہیں فرماتا اور وہ جانتا ہے جو کچھ وہ کرتے ہیں۔
مباح کی تین صورتوں کا بیان
غضَبِ الٰہی کا مستحق:
پہلی صورت یہ ہے کہ بندہ فخروبڑائی اوردکھاوےکےطورپرکوئی مباح چیزلےتو اب اس کایہ لینابُرافعل ہے۔اس فعل کےظاہری لحاظ سےوہ بَروزِقیامت روکےجانے،حساب وکتاب اورذلت وملامت کامستحق ہوگااوراس فعل کےباطنی اعتبارسےوہ عذاب دوزخ کامستحق ہوگااورباطنی فعل فخروبرائی ہےجس کا قصدوارادہ گناہ ہے۔چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اَنَّمَا الْحَیٰوۃُ الدُّنْیَا لَعِبٌ وَّ لَہۡوٌ وَّ زِیۡنَۃٌ وَّ تَفَاخُرٌۢ بَیۡنَکُمْ وَ تَکَاثُرٌ فِی الْاَمْوَالِ وَالْاَوْلَادِ ؕ کَمَثَلِ غَیۡثٍ اَعْجَبَ الْکُفَّارَ
ترجمۂ کنز الایمان:دنیا کی زندگی تونہیں مگر کھیل کوداورآرائش اور تمہارا آپس میں بڑائی مارنااور مال اوراولادمیں ایک دوسرےپر زیادتی چاہنااس مینھ