Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
90 - 274
حرام،مشتبہ اور مباح کا بیان
حرام ومشتبہ کی وضاحت:
	خالص حرام وہ ہے جس کے بارے میں تمہیں یقین ہویاظَنِّ غالب ہو کہ یہ غیر کی ملکیت ہے یا پھر شریعت نے اس سے منع کیا ہےکیونکہ ظَنِّ غالب کثیر احکام میں یقین کے قائم مقام ہے۔اگر کسی شے کے حلال وحرام ہونے میں تمہیں شک ہو جائے اور تمہارا گمان دونوں جانب برابر ہو کہ کسی ایک  کو ترجیح  نہ دے سکو تو یہ شُبہ کا مقام ہے۔ پس حرام سے بچنا فرض اور شبہ والی چیزسےپرہیز کرنا ورع اورتقوٰی ہے۔شرع اور ورع کے حکم میں کوئی مخالفت نہیں ہے، شرع کا حکم آسانی ووُسْعَت پرمشتمل ہوتاہےجبکہ ورع کاحکم شدت واحتیاط پرمبنی ہوتا ہےلہٰذا ورع بھی شرع سے ہی ہے۔
ورع کا راستہ دشوار ہے:
	حکْمِ شرع دوہیں:(۱)جوازاور(۳)افضل۔جومحض جائزہواسےحکْمِ شرع اورجوافضل وبہترہواسےحکْمِ ورع کہاجاتاہے۔ورع وپرہیزگاری کےراستےپرچلنادشوارہے۔جوراہِ آخرت پرچلنا  چاہے وہ اپنے نفس اور دل کوسختیاں برداشت کرنے کے لئے مضبوط کرے ورنہ وہ اس راہ کوطےنہیں کرپائےگا،لہٰذاجورخْتِ سفرباندھ لےاس پرلازم ہےکہ سختیاں برداشت کرے،اگر پہاڑوں میں رہےتو گھاس اورغیرمشکوک پھل کھاکرگزارہ کرےاورجو لوگوں کےدرمیان رہ کرورع وتقوٰی اختیارکرناچاہےاوروہی کھائےجولوگ کھاتےہیں تواس کھانے کواپنےنزدیک ایک مردارکی طرح سمجھےکہ جس کی طرف بوقْتِ ضرورت ہی بڑھاجاتاہے اوراس میں سےبھی اتناہی کھائےجس کےسبب عبادت پرقوت حاصل ہوسکےاتنا کھانے میں وہ معذورہےاوریہ اسےکوئی نقصان نہیں دےگااگرچہ اس کی اصل میں کچھ شُبہ ہو۔