رہی ہے فنا ہورہی ہے دنیا میں ملی ہوئی مہلت ختم ہورہی ہے مگر نقصان میں جو لوگ نہیں ہیں انہیں مذکورہ چاراوصاف بیان کرکےخسارےوالوں سےجداکردیاہے:(۱)ایمان والے (۲)اعمالِ صالحہ والے(۳)حق بات کی تلقین کرنےوالےاور(۴)صبر کی وصیت کرنےوالے۔
حضرات صوفیائےکرام انہیں چاراوصاف سےمُتَّصِف ہونےوالےنبی مکرم،نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکےامتیوں میں بلاشبہ ممتازمقام پرفائز ہوتے ہیں سب سےزیادہ اللہتعالیٰ کی بارگاہ میں جھکنےوالےاوراسےبکثرت یادکرنے والے،ظاہرکےساتھ ساتھ باطن کی طہارت کا بھی بھرپورخیال رکھنے والےمُخْلِصِیْنہی کے گروہ کوصوفیاکےلقب سےمُلَقَّب کیا جاتاہے۔
سیِّدی اعلیٰ حضرت مولاناشاہ امام احمدرضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننےایک مقام پرلکھا کہ ’’صوفیَۂ کرام کی نسبت یہ کہنا کہ ان کا قول و فعلمَعَاذَ اللہکچھ وَقْعَت نہیں رکھتابہت سخت بات ہےاللہ عَزَّ وَجَلَّ فرماتاہے: وَاتَّبِعْ سَبِیۡلَ مَنْ اَنَابَ اِلَیَّ ۚ (1)جومیری طرف جھکےان کی راہ کی پیروی کر۔صوفیَۂ کرام سےزیادہاللہتعالیٰ کی طرف جھکنےوالاکون ہوگا،فتاوٰی عالمگیری میں ہے:اِنَّمَا یُتَمَسَّکُ بِاَفْعَالِ اَھْلِ دِیْنٍ دینداروں ہی کےافعال سےسندلائی جاتی ہے۔صوفیَۂ کرام سےبڑھ کر کون دیندارہے۔‘‘(2)
حضرت سیِّدُناشیخ مُجَدِّداَلف ثانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینےانتہائی خوبصورت اندازمیں تصوُّف کی حقیقت کوبیان کیا ہے،فرماتےہیں کہ ہماری شریعَتِ اِسلامیہ تین چیزوں سےمُرکَّب ہے:(۱)علم (۲)عمل اور(۳)اِخلاص اورتصوُّف اخلاص کو کامل کرنے کا نام ہے۔(3)یعنی
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
… پ۲۱،لقمٰن:۱۵
2… فتاویٰ رضویہ،۲۲/۵۵۹
3…مکتوباتِ امام ربانی،حصہ اول، مکتوب سی وششم، ۱/۹۸، کوئٹہ