اَذْہَبْتُمْ طَیِّبٰتِکُمْ فِیۡ حَیَاتِکُمُ الدُّنْیَا وَ اسْتَمْتَعْتُمۡ بِہَا ۚ فَالْیَوْمَ تُجْزَوْنَ عَذَابَ الْہُوۡنِ بِمَا کُنۡتُمْ تَسْتَکْبِرُوۡنَ فِی الْاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّ وَ بِمَا کُنۡتُمْ تَفْسُقُوۡنَ ﴿۲۰﴾٪(پ۲۶،الاحقاف:۲۰)
ترجمۂ کنزالایمان:تم اپنےحصّہ کی پاک چیزیں اپنی دنیاہی کی زندگی میں فناکرچکےاورانھیں برت چکے توآج تمہیں ذلت کاعذاب بدلہ دیا جائےگاسزا اس کی کہ تم زمین میں ناحق تکبر کرتےتھےاور سزااس کی کہ حکم عدولی کرتے تھے۔
پس جس قدر دنیا کی لذتوں سے لیاجائے گا آخرت کی لذتوں سے اُتنا ہی کم کر دیا جائےگا۔امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُناعُمَرفاروقِ اعظمرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہنےفرمایا:”اگرآخرت نہ ہوتی توہم بھی تمہاری زندگی میں تمہارےساتھ شریک ہوتے۔“
مطلب یہ کہ اگرآخرت کےثواب کی کمی کا خوف نہ ہوتا تو ہم بھی دنیاوی زندگی میں لذتوں سے فائدہ اٹھانے والوں میں ہوتے۔
دسویں آفت:قیامت کی رسوائی کا اندیشہ
زیادہ کھانےمیں ضرورت سےزیادہ لینےاورخواہشات کی طلب میں ادب ترک کرنے کی وجہ سےروزِقیامت روکاجائےگا،حساب ہوگا،ملامت کی جائےگی اور شرم وعاردلائی جائےگی کیونکہ دنیاکےحلال پرحساب،حرام پرعذاب اوراس کی زینت پر ذلت ہے۔
یہ10آفات ہیں جن میں سےاپنےنفس پرنظررکھنےوالےکےلئےایک بھی کافی ہے۔ تو اے عبادت میں کوشش کرنے والے! تم پرخوراک کے معاملے میں انتہائی احتیاط لازم ہے تاکہ تم حرام اور شُبہ والی غذا میں مبتلا نہ ہو ورنہ عذاب تمہارامقدر ہو گا۔ پھر یہ کہ حلال کو بھی اتنااختیارکروجواللہ عَزَّ وَجَلَّکی عبادت میں رُکاوٹ نہ بنے تاکہ تم کسی بُرائی میں نہ پڑواورقیامت میں روکے جانے اور حساب سے بچ جاؤ اورتوفیق عطا فرمانے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہے۔