ساتویں آفت:دل اور بدن کی مصروفیت
زیادہ کھانے میں دل اور بدن کی مصروفیت ہے کہ پہلے اسے حاصل کرنا پھر تیار کرنا پھر کھانا اور پھر اس سے فارغ ہونے اور اس کی خرابیوں سےسلامتی کے ساتھ خلاصی پانے میں مصروف رہنا کیونکہ بعض اوقات اس سے خرابیاں اور بیماریاں پیدا ہوتی ہیں کیونکہ کھانا جب زیادہ مقدار میں معدے میں ہو تو وہ درست طریقے سے اسےہضم نہیں کر پاتا یوں وہ بوجھ بن جاتا ہے اورٹھنڈا ہونے کی صورت میں اس سے بلغم اورفاسد رطوبتیں پیدا ہوتی ہیں اورگرم ہو تو اس سے اخلاط(خون،بلغم،سوداء ،صفراء)کوجلانےوالی حرارت پیدا ہوتی ہے،پھراُس سےجَلاہوا بلغم پیدا ہوتاہے یا وہ زرد رنگ کے کڑوے پانی میں بدل جاتا ہےاور یہ سب تجربہ سےثابت ہے۔اللہ عَزَّ وَجَلَّکےمحبوبصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نےارشادفرمایا:
”ہربیماری کی جڑبدہضمی ہے(1)اورہردواکی اصل پرہیز ہے۔‘‘(2)پھر یہ ہے کہ ایسا کرنا تمہیں دنیا کی شدید طلب، لوگوں سےامید اور وقت کی بربادی کا محتاج کردے گا۔
آٹھویں آفت:امورِ آخرت میں پریشانی
زیادہ کھانےسےامورِآخرت میں پریشانی کاسامناکرناپڑےگامثلاً: موت کی سختیوں کی شدت۔مروی ہےکہ”موت کی سختی کی شدت دنیاوی لذّات کےحساب سے ہو گی۔“ پس جس کی لذّات زیادہ ہوں گی اس کی سختیاں بھی زیادہ ہوں گی۔
نویں آفت:ثواب میں کمی کا سامنا
زیادہ کھانے سے آخرت میں ثواب کی کمی کا سامنا کرنا پڑے گا۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…العلل المتناهية،حديث فى ذم كثرة الاكل،۲/۶۶۷،حدیث:۱۱۱۰۔جامع صغیر،ص۷۱،حدیث:۱۰۸۷
2…تفسیرالقرطبی،سورة الاعراف،تحت الآية:۳۱ ،۷/۱۳۹