Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
87 - 274
کردیتاہے۔حضرت سیِّدُنادارانیقُدِّسَ سِرُّہُ النُّوْرَانِینےفرمایا:اگرتم دنیایاآخرت  کی کوئی حاجت پوری  کرناچاہوتواسےپوراکرنےسےپہلےکچھ مت کھاؤکیونکہ کھاناعقل کومتغیرکردیتاہے۔
چوتھی آفت:عبادت میں کمی
	زیادہ کھانے سےسے عبادت میں کمی آتی ہے کیونکہ اگر انسان زیادہ کھا لے تواُس کا بدن بھاری ہوجاتا،نینداُس پرغلبہ کرتی اوراُس کےاعضاء ڈھیلےپڑجاتےہیں۔حضرت سیِّدُنا  سفیان ثوری  عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْقَوِیفرماتے ہیں:عبادت ایک پیشہ ہے ،اس کی دکان تنہائی ہے اور اس کا ذریعہ بھوک ہے۔
پانچویں آفت: حلاوتِ عبادت کا ختم ہونا
	زیادہ کھانے سے عبادت کی حلاوت ختم ہوجاتی ہے۔امیرالمؤمنین حضرت سیِّدُنا  ابوبکر صدیقرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہُنےارشادفرمایا:میں جب سےمسلمان ہواہوں کبھی پیٹ بھرکر نہیں کھایاتاکہ عبادت کی حلاوت نصیب ہواورجب سےاسلام قبول کیا ہےباری تعالیٰ کی ملاقات کے شوق کے سبب کبھی سیر ہوکر نہیں پیا۔(1) 
چھٹی آفت:حرام میں پڑنے کا خطرہ
	زیادہ کھانےکی صورت میں حرام یاشُبہ والی غذامیں پڑنےکاخطرہ ہے۔پیارےآقا، مدینےوالےمصطفےٰصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:حلال تجھےبقدرِ ضرورت ہی ملے گا اور حرام تیرے پاس بے تحاشا آئے گا۔(2)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…اصل کتاب میں چوتھی اورپانچویں آفت  مذکور نہیں تھی لہٰذا ان کا خلاصہ ”منہاج العابدین“ سےدرج کیا گیا ہے۔از علمیہ
2…تخریج نہیں ملی۔(علمیہ)