Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
86 - 274
 کیونکہ دل بھی اس کھیت  کی طرح مردہ ہوجاتاہےجس پرپانی کی کثرت ہو جائے۔(1)
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:معدہ دل کےنیچےاُبلتی ہوئی ہنڈیاکی مانند ہےجس سے بخارات ودھواں دل کی طرف بلند ہوکراسےگدلاکردیتے ہیں۔
دوسری آفت:اعضاء میں فتنہ وفساد
	زیادہ کھانے سے  اعضاء میں فتنہ، جوش مارنا اور فساد کرنے کی رغبت پیدا ہوتی ہے کیونکہ جب آدمی سیر ہو تو اس کی آنکھیں حرام اور فضول چیزوں کو دیکھنے کی خواہش کرتی ہیں، کان سننے کی جستجو کرتے ہیں،زبان فضول اور حرام گفتگومیں پڑ جاتی ہے،شرمگاہ میں شہوت اُبھرتی ہےاورپاؤں غلط کاموں کی طرف اُٹھتے ہیں  اور اگر انسان بھوکا ہو تو تمام اعضاءپُرسکون رہتے ہیں اور کسی فضول چیز کا لالچ کرتے  ہیں نہ کسی کی طرف بڑھتے ہیں۔ اسی وجہ سے کہا گیا کہ’’پیٹ ایسا عضو ہے اگر یہ بھوکا ہو تو تمام اعضاء سیر رہتے ہیں  اور کچھ مطالبہ نہیں کرتےاوراگرپیٹ بھراہوتوتمام اعضاء بھوکےہوتےہیں اورمشغولیت کےطلبگار رہتےہیں۔‘‘پس آدمی کےافعال واقوال اس کےکھانےپینےکےمطابق ہوتےہیں اگرحرام اندرجائےگاتوباہربھی حرام آئےگا،اگرفضول اندرجائےگاتوباہربھی فضول آئےگا، کھانا اعمال کا بیج ہے اور اعمال  اس کا پودا ہیں لہٰذاجیسا بیج ہو گا ویسا پودا اُگے گا۔
تیسری آفت: قوتِ فہم میں کمی
	زیادہ کھانےسےعلم وفہم میں کمی واقع ہوتی ہےکیونکہ پیٹ بھرکےکھاناقوتِ فہم  کوختم 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…عمدة القاری،کتاب الاطعمة،باب وقول الله تعالٰی:كلوا من طيبت ما رزقنكم،۱۴/۳۸۵،تحت الحدیث:۵۳۷۴