Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
83 - 274
اپنے موجودہ حال پر نظر رکھوجیسا کہ  ایک بزرگ رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا:”تیری ابتدا ایک گندہ قطرہ  تھی اورتیری انتہا ایک  سڑا ہوا مردار ہوگی اور ان دونوں کی درمیانی حالت میں  تو پاخانہ اٹھائے پھر رہا ہے ۔“ پھر تم کیسے تکبر کرتے ہو اورتم یہ نہیں دیکھتے کہ اللہ عَزَّ وَجَلَّ نےاعمال کوتیرےفعل کےساتھ جاری فرمایااورحقیقت میں یہ سباللہ عَزَّ وَجَلَّہی کے پیداکرنےسے ہیں۔
	ارشادباری تعالیٰ ہے:
وَاللہُ خَلَقَکُمْ وَمَا تَعْمَلُوۡنَ ﴿۹۶﴾ (پ۲۳،الصٰٓفٰت:۹۶)
ترجمۂ کنز الایمان:اوراللہنےتمہیں پیدا کیا اور تمہارےاعمال کو۔
	اورپھرتم اعمال پرتکبرکیونکرکرتےہواوراس پربھی نظررکھوکہ ابھی اعمال کی قبولیت  کاکوئی پتانہیں کیونکہ آفات اور رکاوٹیں بہت زیادہ ہیں لہٰذا تمہارے تکبر کی کوئی وجہ نہیں۔ پھراگرتمہاراتکبرحق بات کوقبول نہ کرنےوالاہوتواُس شخص کی سزاکویادکروجوحق سے منہ موڑکرباطل میں منہمک ہو۔بصیرت کےخواہش مندکےلئےاتناہی کافی ہےاورتوفیق دینے والی ذاتاللہ عَزَّ وَجَلَّہی کی ہے۔
پیٹ کی حفاظت:
	تمہارے لئےپیٹ کی حفاظت اور اصلاح بھی بہت ضروری ہے،کوشش کرنے والے کے لئے  اس کی اصلاح بہت دشوار ہے، اس کا بگاڑ بہت زیادہ اور نقصان بہت بڑا ہے کیونکہ یہ  سب اعضاء کا سرچشمہ وبنیاد ہے، دیگر اعضاء میں قوت وکمزوری اور عفت وسرکشی اسی پیٹ سے پہنچتی ہے ۔ اگرتمہارے اندراللہ  عَزَّ    وَجَلَّ کی عبادت کا عزم وہمت ہے تو تم پر لازم ہے کہ پہلے پیٹ  کو حرام اور شُبہ والی غذا سے بچاؤ پھر حلال میں بھی زائداز ضرورت سے بچو ۔