عظمت وکبریائی ایسی صفات ہیں جو اللہ عَزَّ وَجَلَّ کے ساتھ خاص ہیں اس کے علاوہ کسی کے لئے جائز نہیں جیسا کہ آدمی کا ازار اور چادر اسی کے ساتھ خاص ہوتے ہیں۔ یہ انتہائی بلیغ تشبیہ اور جامع اختصاص ہے۔
جب تکبر تمہیں حق کی معرفت،اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نشانیوں اوراس کے احکام کو سمجھنے سے روکتا ہےجو کہ تمام امور کی اصل ہیں نیز یہ تکبرتمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکی ناراضی، دنیا میں غم اور آخرت میں آگ میں جھونکتاہےتوعقلمندکی یہ شان نہیں کہ وہ خودسےغافل ہوجائےاور اجتناب کی راہ اوراللہ عَزَّوَجَلَّکی پناہ کوچھوڑکرخودسےتکبرکوزائل نہ کرےاورتوفیق دینے والا اللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہے۔
تکبرکا علاج:
تکبرکوتم سےدورکرنےوالی چیزعاجزی وتواضع ہے۔خودکوحقیروکمترخیال کرنےکا نام تواضع ہےاوراس کی دوقسمیں ہیں:(۱)تواضع عام اور(۲)تواضع خاص۔
تواضُع عام یہ ہے کہ کھانے، پینے، رہنے، اوڑھنے اور سواری وغیرہ میں معمولی چیز پر اِکتفا کرے۔ اس کے مقابلے میں تکبریہ ہے کہ ہر معاملے میں اَرفع واَعلیٰ چیز چاہنا اور یہ کبیرہ گناہ اور بڑی خطا ہے۔
تواضُع خاص یہ ہے کہ ہر کمتر وبرتراورشریف شخص خود کو حق قبول کرنے کا عادی بنائے۔ اس کے مقابلے میں تکبر یہ ہے کہ خود کو حق بات سے بلند سمجھنااور یہ بھی کبیرہ گناہ اور بڑی خطا ہے۔
تواضع عام اختیار کرنےپر جوباتیں تمہیں اُبھاریں گی اور تمہاری مدد کر کے تکبر کو تم سے دور کریں گی وہ یہ ہیں کہ تم آفات وگندگیوں کے لحاظ سے اپنی ابتدا وانتہا کو یاد کرو اور