ایک مقام پر ارشاد فرمایا:
کَذٰلِکَ یَطْبَعُ اللہُ عَلٰی کُلِّ قَلْبِ مُتَکَبِّرٍ جَبَّارٍ ﴿۳۵﴾(پ۲۴،المؤمن:۳۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اللہیوں ہی مہرکردیتاہےمتکبر سرکش کے سارے دل پر۔
دوسری مصیبت:اللہ عَزَّ وَجَلَّتکبر کرنے والے پرغضب فرماتا اور ناراض ہوتا ہے۔ چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
اِنَّہٗ لَایُحِبُّ الْمُسْتَکْبِرِیۡنَ ﴿۲۳﴾(پ۱۴،النحل:۲۳)
ترجمۂ کنز الایمان: بےشک وہ مغروروں کو پسند نہیں فرماتا۔
تیسری مصیبت : دنیا کی ذلت ورسوائی ، کیونکہ تکبُّر کرنے والا اس وقت تک دنیا سے نہیں جاتا جب تک اپنے گھروالوں اور خدام میں سے کمترین کے ہاتھوں ذلیل وخوار نہ ہو جائے جیسا کہ حریص کو اللہ عَزَّ وَجَلَّاس وقت تک موت نہیں دیتا جب تک اسے روٹی کے ایک ٹکڑے اور پانی کے ایک گھونٹ کے لئے ترسا نہ دے اور بندہ اس میں بھی آسانی نہیں پاتااورشیخی مارنےوالےکواللہ عَزَّ وَجَلَّاس وقت تک موت نہیں دیتاجب تک اُس کی عزت اُس کے بول وبرازکے ذریعے خراب نہ کردے اورجو ناحق تکبر کرے گا اللہ عَزَّ وَجَلَّضرور اسے ذلیل وخوار کرے گا۔
چوتھی مصیبت:آخرت میں آگ اور عذاب میں مبتلا ہونا ہے جیسا کہ حدیْثِ قدسی ہےاللہ عَزَّوَجَلَّ ارشادفرماتاہے:اَلْکِبْرِیَاءُ رِدَائِیْ وَالْعَظَمَۃُ اِزَارِیْ فَمَنْ نَازَعَنِیْ وَاحِدًامِّنْہُمَا قَذَفْتُہٗ فِی النَّاریعنی بڑائی میری چادراورعظمت میرااِزارہےتوجس نےان دونوں میں سےکوئی ایک مجھ سے چھیننا چاہی میں اسے جہنم کی آگ میں ڈال دوں گا۔(1)
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
1…ابوداود،کتاب اللباس،باب ماجاء فی الکبر،۴/۸۱،حدیث:۴۰۹۰