Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
80 - 274
 اوراِصلاحِ نَفْس کااہتمام کرےاورتوفیق دینےوالااللہ عَزَّ وَجَلَّہی ہےاوریہ یوں ہوگاکہ  تمام امور میں احتیاط، بردباری اور ٹھہراؤ سے کام لے یہاں تک کہ بندے کے لئے اس کی راہ بالکل واضح ہو جائےاوروہ ہرہرجز کواس کا پورا حق دےاوران خطرات  وآفات کو یاد کرےجوانسان کودرپیش ہوں گی،یونہی صبروتحمل اورٹھہراؤسےحاصل ہونےوالی سلامتی کا سوچے اور بے سوچے سمجھے جلد بازی سے جو ندامت وملامت ہو گی اسے ذہن میں لائے، یونہی ایسی دیگر باتوں پر غور کرے جو اسے تمام امور میں صبروتحمل اور توقف  پر اُبھار کر بے فکری وجلد بازی سے روکے رکھیں ۔
چوتھی آفت: تکبر
	تکبر کہتے ہیں خود کو بلند اور بڑا سمجھنے کو، یہ ایسی آفت ہے جو نیکی کا نام ونشان مٹادیتی ہے کیا تم نے اللہ  عَزَّ    وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا:
اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ٭۫ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ﴿۳۴﴾ (پ۱،البقرة:۳۴)
ترجمۂ کنز الایمان:منکر ہوا اور غرور کیا اور کافر ہو گیا۔
	اعمال کوخراب کرنےمیں اس سےبڑھ کرکوئی آفت نہیں  کیونکہ  یہ’’اصل‘‘میں خرابی پیدا کرتی ہے کہ دین اور عقیدے کو خراب کرتی ہے اور جس میں پائی جائے اسے مزید چارمصیبتوں میں مبتلا کر دیتی ہے:
	پہلی مصیبت:حق سے محروم رہنا اور اللہ عَزَّ وَجَلَّکی نشانیوں کی معرفت اور احکام کو سمجھنے سے دل کا اندھا ہو جانا۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّارشاد فرماتا ہے:
سَاَصْرِفُ عَنْ اٰیٰتِیَ الَّذِیۡنَ یَتَکَبَّرُوۡنَ فِی الۡاَرْضِ بِغَیۡرِ الْحَقِّ ؕ(پ۹،الاعراف:۱۴۶)
ترجمۂ کنزالایمان:اورمیں اپنی آیتوں سے انھیں پھیردوں گاجوزمین میں ناحق اپنی بڑائی چاہتے ہیں۔