پیش لفظ
از مفتی فُضَیْل رضا قادری عطاریمُدَّظِلُّہُ الْعَالِی
سورۂوالعصر انتہائی مختصر سی قرآنی سورت ہے مگر اپنے مضمون اور پیغام کے لحاظ سے انتہائی جامع ہے۔ امام شافعیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْکَافِینےتویہاں تک فرمایاہےکہ اگرتمام لوگ اس ایک سورت میں سچائی کے ساتھ غور و فکر سے کام لیں تو ان کی ہدایت و نجات کے لئے کافی ہے اور علمانے لکھا ہے کہ یہ سورت مومن کی میزان ہے یعنی ہر مسلمان اپنے روزو شب میں کئے گئے اعمال اور زندگی کو اس پر تول سکتا ہے اسے معلوم ہوجائے گا کہ وہ کتنے خسارے اور کتنے نقصان میں ہے ۔
اللہتعالیٰ اس سورۂ مبارَکہ میں ارشادفرماتاہےوالعصریعنی زمانےکی قسم زمانےسے مرادکیاہے؟اس بارےمیں چنداَقوال ہیں:(۱)مطلق زمانہ (۲)غروب سےپہلےکاوقت اسےبھی عصرکہتےہیں(۳)نمازعصرمرادہے(۴)حضورنبی کریمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکا مخصوص زمانہ مرادہےسیِّدی اعلیٰ حضرت احمدرضاخانعَلَیْہِ رَحْمَۃُ الرَّحْمٰننےاس کاترجمہ کچھ یوں فرمایاہے:’’اس زمانَۂ محبوب کی قسم‘‘اور مُفَسِّرِشہیر،مفتی سیِّدمحمدنعیم الدین مراد آبا دیعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْہَادِی فرماتے ہیں کہ سب سے لذیذوراجح قول بھی یہی ہےکہ اس سے زمانَۂ محبوب مراد لیا جائے ۔
اس کےبعداللہتَعَالٰینےارشادفرمایا: اِنَّ الْاِنۡسَانَ لَفِیۡ خُسْرٍ ۙ﴿۲﴾بےشک آدمی نقصان میں ہے۔اِلَّا الَّذِیۡنَ اٰمَنُوۡا وَ عَمِلُوا الصّٰلِحٰتِ وَ تَوَاصَوْا بِالْحَقِّ ۬ۙ وَ تَوَاصَوْا بِالصَّبْرِ ٪﴿۳﴾مگرجوایمان لائے اور نیک عمل کئے اور حق بات کی تلقین اور صبر کی وصیت کی۔
اس سورہ میں سب انسانوں کوخسارےمیں فرمایااس کامطلب یہ ہےکہ عُمْر گھٹ