اور اپنے مقصود سے محروم رہتا ہے۔
تیسرانقصان:اگرکوئی انسان اس عبادت گزارپرزیادتی کربیٹھےتویہ اس کےلئے بددعا کرتاہےیوں ایک مسلمان اس کی بددعاکےسبب ہلاکت میں مبتلاہوجاتاہےاوربعض اوقات تویہ شخص خودحدسےتجاوزکرکےگناہ وہلاکت میں مبتلاہوجاتاہے۔چنانچہ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَیَدْعُ الۡاِنۡسَانُ بِالشَّرِّ دُعَآءَہٗ بِالْخَیۡرِ ؕ وَکَانَ الۡاِنۡسَانُ عَجُوۡلًا﴿۱۱﴾(پ۱۵،بنی اسرآئیل:۱۱)
ترجمۂ کنزالایمان:اورآدمی برائی کی دعا کرتا ہے جیسے بھلائی مانگتا ہے اورآدمی بڑا جلد باز ہے
چوتھانقصان:ورع کافوت ہوجانا،کیونکہ عبادت کی اصل اوردارومدارورع پرہے۔ ہرشےمیں انتہائی سمجھداری سےکام لینےاوراپنےہرکام جیسے کھانا،پینا، پہننا،گفتگو یا کسی بھی فعل میں مکمل چھان بین کرنے کو ورع کہتے ہیں۔اگربندہ جلدبازہواوربُردباروتحمل مزاج نہ ہوتووہ کاموں میں کماحَقُّہٗ غوروفکرنہیں کرتا۔ پھرنتیجہ یہ ہوتاہےکہ وہ ہرگفتگومیں جلدی کرتاہےاورپھسل جاتاہے،ہرچیز کھانے میں جلدی کرتاہےتوحرام یا مشکوک میں پڑجاتا ہےالغرض ہرمعاملےمیں اس کی ورع فوت ہوجائےگی اورکون سی بھلائی اورعبادت ہے جوورع کےبغیرہوتی ہے؟
جلدبازی سے نجات:
حاصل یہ کہ جس آفت یعنی جلدبازی کے باعث انسان مراتب و منازلِ خیر سے محروم رہ جائے، اپنی ضروری حاجات کے حصول میں کامیاب نہ ہو اور وہ اپنی اور دوسرے مسلمانوں کی ہلاکت کا باعث بنے اور یہ دوہری ہلاکت اس وَرَع کے فوت ہونے کی وجہ سےہےجومقصود ِعبادت ہےلہٰذامسلمان پرلازم ہےکہ عبادت سےرُکاوٹوں کودورکرے