Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
77 - 274
 مانگنے کے ساتھ بیان فرمایا ہے۔
	حسد کی تیسری خرابی خواہ مخواہ کی پریشانی وبے چینی اور غم میں مبتلا ہونا ہے، حسد کرنے والے  کی عقل پریشان اور غم دائمی ہو جاتا ہے۔
	چوتھی خرابی یہ ہے کہ دل اندھا ہو جاتا ہے حتّٰی کہ وہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے احکام کو جلد نہیں سمجھ پاتا۔ حضرت سیِّدُنا سفیان ثوری عَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْوَ لِینے فرمایا: حاسد نہ بن تاکہ تجھے فہم کی تیزی نصیب ہو۔
	پانچویں خرابی ذلت ورسوائی  اور محرومی کا سامنا کرنا ہے کیونکہ حاسد نہ تو اپنی مرادکو پاسکتاہےاورنہ  ہی دشمن کےخلاف اس کی مددکی جاتی ہےاوراس کی مرادپوری ہوبھی کیسے سکتی ہےکیونکہ وہ چاہتاہےکہ اللہعَزَّ    وَجَلَّکےبندوں سےاللہ  عَزَّ وَجَلَّ کی نعمتیں چھن جائیں۔
حسد کا علاج:
	حسد ایسی بیماری ہے جوتمہاری عبادت کو خراب کر دے گی، تمہاری برائی اور گناہوں کو بڑھائےگی،تمہاراذہنی وقلبی سکون چھین لےگی اورتم دشمنوں پرغالب آسکوگےنہ اپنی مرادکوپاسکوگے۔اس سےبڑھ کربھی کوئی بیماری ہوسکتی ہے؟لہٰذا تم پر لازم ہے کہ اس کی ضد سے اس کا علاج کرو اور اس کی ضد خیرخواہی ہے اور وہ یہ ہے کہ مسلمان بھائی کے پاس اللہ عَزَّوَجَلَّکی وہ نعمت جس میں اس کے لئے بہتری ہے اس کی بقا چاہی جائے۔ اس بہتری کا اندازہ قرائن اور غالب گمان سے ہو گا بالفرض اگر معاملہ تم پر مشتبہ ہو جائے تو تم کسی بھی مسلمان سے نہ زوالِ نعمت کی تمنا کرو نہ بقائے نعمت کی آرزو بلکہ معاملہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے سپرد کر دو۔
	جوباتیں تمہیں حسدسےروک کرخیرخواہی پراُبھاریں گی وہ یہ ہیں:اللہ عَزَّ   وَجَلَّ نے مسلمانوں کے ساتھ جو دوستی وبھائی چارہ لازم کیا ہے اسےیاد کرو، اللہ عَزَّ وَجَلَّ نے مومن