Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
76 - 274
طلبگار ہو تو یہ غِبْطہ(رشک)کہلاتا ہے۔
	خبردار! حسدنیکیوں کو کھاجاتا اور گناہوں پر اُبھارتا ہے،یہ وہ مرض ہے جس میں بڑے بڑے علما وقُرّاء مبتلا ہو جاتے ہیں حتّٰی کہ یہ انہیں ہلاکت میں ڈال کر جہنم کے لئے پیش کر دیتا ہے،اسی لئے حضور نبی اکرم ، رسول اعظم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنے ارشاد فرمایا:چھ قسم کے لوگ چھ چیزوں کے سبب جہنم میں جائیں گے: (۱)…عرب عصبیت کی وجہ سے(۲)…حکمران ظلم کی وجہ سے(۳)… سردارتکبُّرکی وجہ سے(۴)…تاجر خیانت کی وجہ سے(۵)…دیہات والے جہالت کی وجہ سے اور (۶)…علما حسد کی وجہ سے۔(1)
حسد کی پانچ خرابیاں:
	حسدمیں پانچ خرابیاں ہیں،پہلی یہ کہ حسدنیکیوں کوبربادکردیتاہےاورحدیثِ مبارک میں آیاہے:اَلْحَسَدُیَاْکُلُ الْحَسَنَاتِ کَمَاتَاْکُلُ النَّارُ الْحَطَبَیعنی حسد نیکیوں کو ایسے کھا جاتا ہے جیسے آگ لکڑی کو کھاتی ہے۔(2)
	دوسری خرابی گناہ اور برائیوں کا اِرتکاب ہے کیونکہ حسد کرنے والا منہ پر چاپلوسی کرتااور پیٹھ پیچھے غیبت کرتا اور مصیبت کے وقت گالی دیتا ہے ۔تمہیں اللہ عَزَّ وَجَلَّکا یہ فرمان کافی ہونا چاہیے:
وَ مِنۡ شَرِّ حَاسِدٍ اِذَا حَسَدَ ٪﴿۵﴾(پ۳۰،الفلق:۵)
ترجمۂ کنزالایمان:اورحسدوالےکےشر سے جب وہ مجھ سے جلے۔
	یہاں اللہ عَزَّ وَجَلَّنے حسد کے شر سے پناہ مانگنے کو شیطان اور جادوگر کے شر سے پناہ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…التفسیرالکبیر،سورة البقرة،تحت الآية:۱۰۹ ،۱/۶۴۵مسندالفردوس،۱/۴۴۴،حدیث:۳۳۰۹
2…ابن ماجہ ،کتاب الزھد،باب الحسد،۴/۴۷۳،حدیث:۴۲۱۰