دو گے، گناہ کثیر ہو جائیں گے، دل سخت ہو جائے گا، انجام سے غافل ہو جاؤ گے اور آخرت برباد ہو جائی گی لہٰذا سوچو! اس سے بُرا حال اور اس سے بڑی آفت اور کیا ہو سکتی ہے۔
اس کے برعکس جب تمہاری امید کم ہو گی تو تم موت کو اپنے قریب خیال کرو گے، اپنے زمانے والوں اور اُن دوستوں کو یاد کرو گے جنہیں موت نےاُس وقت آدبوچا جس کا انہوں نے سوچا تک نہیں تھا، پھر تم خود سے کہو گے کہ”ہو سکتا ہے تیرا حال بھی ان جیسا ہو جائے۔“لہٰذا دھوکے سے بچو کیونکہ کتنے ہی ایسے ہیں جو صبح کرتے ہیں تو شام کرنا نصیب نہیں ہوتی اور کل کا انتظار کرنے والے بہت سے لوگ کل کو نہیں دیکھ پاتے ،اگر تم موت اور اس کے بڑھنے کو دیکھو تو تمہیں امید اور اس کے دھوکے سے نفرت ہو جائے گی۔
تین دن کی دنیا:
حضرت سیِّدُناعیسٰیرُوْحُاللہعَلَیْہِ السَّلَامنےارشادفرمایا:دنیاتین دن کی ہے:ایک گزرا ہواکل جس میں سےتیرے ہاتھ میں کچھ بھی نہیں ،دوسرا آنے والا کل جس کے بارے میں تو جانتا ہی نہیں کہ اسے پائے گا یا نہیں اورتیسراوہ دن جس میں تو موجود ہے لہٰذا اِس آج کے دن کو غنیمت جان۔
ہرسانس میں موت :
تمہیں ہر گھڑی بلکہ ہر سانس میں یہ سوچ رکھ کر عبادت کرنی چاہیےکہ یہ وقت اور سانس ضائع نہ ہوجائےاورتوبہ کی طرف بھی ایسےہی جلدی کرنی چاہیےگویادوسری سانس میں تمہیں موت آجائےگی اورتم اپنےنفس سےکہو:”اے نفس!تواتنےرزق کااہتمام مت کرہوسکتاہےتوزندہ ہی نہ رہےکہ تجھےاس کی حاجت ہویوں تیراوقت ضائع ہوجائےگا۔“ اللہ عَزَّ وَجَلَّکےمحبوب صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمتک یہ خبرپہنچی کہ حضرت سیِّدُنا اُسامہ بن زید