Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
73 - 274
کےلئے کچھ جمع کرلوں ۔ یوں تم دنیامیں مشغول ہوکراس کےحریص ہوجاؤگےاوراس کا اہتمام کرتے ہوئے کہو گے: میں کیا کھاؤں؟ کیا  پیؤں؟ کیا پہنوں؟ اب گرمی آگئی، اب سردی آگئی اور میرے پاس تو کچھ ہے بھی نہیں،ممکن ہے عمردراز ہو جائےتو میں محتاج ہو جاؤں گااور بڑھاپے میں تو محتاجی بھی زیادہ ہوتی ہے لہٰذا  میرے پاس اتنا ہونا ضروری ہےجو مجھے لوگوں کا محتاج نہ بنائے۔ یہ ساری امیدیں  تمہیں دنیا کی طلب ورغبت، موجودہ سامانِ دنیا میں بخل اور مزید جمع کرنے پر اُبھارتی ہیں، اس کا کم سے کم نقصان یہ ہے کہ تمہارا دل مشغول ہو جائے گا، وقت ضائع ہوگااوربے فائدہ غم اور فکریں تمہیں گھیر لیں گی۔
لمبی اُمید دل سخت کرتی ہے:
	یونہی لمبی امید یں دل کی سختی اور آخرت کو بھولنے کا باعث بھی ہیں کیونکہ جب تمہیں لمبی زندگی کی امیدہو گی توتم موت اورقبرکوبھول جاؤگے۔حضرت سیِّدُناعلیُّ المرتضٰیکَرَّمَ اللہُ تَعَالٰی وَجْہَہُ الْکَرِیْم نے فرمایا:”مجھے تم پر لمبی امیدوں اور خواہشات کی پیروی کاخوف ہے،سنو!لمبی امیدتمہیں آخرت بُھلادےگی اورخواہش کی پیروی تمہیں حق سےروک دےگی۔“کیونکہ لمبی امیدکےوقت دنیا،اس میں زندگی گزارنےکےاسباب اورلوگوں سےمیل جول تمہارے نزدیک سب سے اہم اور توجہ کا مرکز بن جائے گا یوں تمہارا دل سخت ہو جائےگاجبکہ دل کی نرمی اورصفائی موت،قبراورثواب وعذاب کویادکرنےپرمنحصرہے۔فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
فَطَالَ عَلَیۡہِمُ الْاَمَدُ فَقَسَتْ قُلُوۡبُہُمْ ؕ(پ۲۷،الحدید:۱۶)
ترجمۂ کنزالایمان:پھران پرمدت دراز ہوئی تو ان کے دل سخت ہو گئے۔
 آخرت برباد ہوسکتی ہے:
	جب تمہاری امید لمبی ہوجائےگی توتمہاری عبادت کم ہو جائے گی،تم  توبہ کو مؤخر کر