Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
70 - 274
	دل کی مصروفیت بہت زیادہ ہےکیونکہ عقل اورشہوت دونوں اس میں پائے جاتے ہیں اوریہ دونوں اپنےاپنےلشکروں کےساتھ اسےمیدان جنگ بنائےہوئےہیں اوریہ دونوں کی جنگ میں پھنساہواہےلہٰذاایسےمقام کی حفاظت اوربچاؤبےحدضروری ہےاوراس سے غافل  نہ رہا جائے ۔
	یونہی دل کو پیش آنے والی چیزیں بھی زیادہ ہیں کیونکہ خیالات بارش کی مانند دن رات اس پر وارد ہو رہے ہوتے ہیں جنہیں تم روک نہیں سکتے،اس لئے کہ دل دو پلکوں کے مابین آنکھ کی طرح نہیں کہ تم جب چاہو کھول لو اور جب چاہو بند کرلو،نہ اُسے پیش آنے والی چیزیں کسی خالی جگہ میں ہیں اور نہ ہی کسی تاریک رات میں ہیں  کہ انہیں دیکھنا ہی کافی ہوجائے اور یہ دل جبڑوں اور دانتوں کے پیچھے موجود زبان کی طرح بھی نہیں کہ تم اس کے خیالات کو روک سکو اور اُن سے بچ سکو۔ پس تمہارے لئے دل کا علاجبہت مشکل ہے کیونکہ وہ تم سے پوشیدہ ہے تو بعید ہے کہ تم اس میں آفات کے داخل ہونے کو سمجھ سکو لہٰذا تمہیں طویل مجاہدے، باریک بینی اور کثیر ریاضت کے ذریعے اس کی اور اس کے احوال کی جانچ پڑتال کرنے کی ضرورت ہے۔ یاد رکھو کہ یہ دل اُبلنے والی ہنڈیا سے بھی جلدی پلٹ جاتا ہے پس یہ دل ایک ”پَر“ کی طرح ہے جسے ہوائیں اُلٹ پلٹ کر رہی ہیں تو اگر دل لغزش کھاتا ہے تو اُس کی لغزش بہت بڑی اور معاملہ انتہائی مشکل اور سنگین ہوتاہے کیونکہ اس کی سب سے کم لغزش دل کی سختی اور غَیْرُاللہ کی طرف  مائل ہونا ہے اور اس کا آخری درجہ کفروانکار پرختم ہوتا ہے۔ وَالْعِیَاذُ بِاللہِ تَعَالٰی یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّاپنی پناہ میں رکھے۔کیا تم نے اللہ عَزَّ وَجَلَّ کا یہ فرمان نہیں سنا:
اَبٰی وَاسْتَکْبَرَ٭۫ وَکَانَ مِنَ الْکٰفِرِیۡنَ﴿۳۴﴾(پ۱،البقرة:۳۴)
ترجمۂ کنزالایمان:منکرہوااورغرورکیااورکافر ہو گیا۔
	پس شیطان کا تکبُّر دل میں تھا جس نے اسے ظاہر میں انکار اورکفر پر اُبھارا۔