دے اور اس سے بَری ہوجائے ۔
دل بادشاہ اوراعضاء رعایاہیں:
یہ بھی سمجھ لو کہ دل ایک بادشاہ ہے جس کی پیروی کی جاتی ہے اور تمام اعضاء اس کی رعایا ہیں۔اگر بادشاہ درست ہو گا تو رعایا بھی درست ہو گی اوراگر بادشاہ خراب ہو گا تو رعایا بھی خراب ہوجائےگی،یہی وجہ ہےکہ حضورنبیِّ کریم،رَءُوْفٌ رَّحیمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےارشادفرمایا:”اِنَّ فِي الْجَسَدِمُضْغَةً اِذَاصَلَحَتْ صَلَحَ الْجَسَدُكُلُّهٗ وَاِذَافَسَدَتْ فَسَدَ الْجَسَدُكُلُّهٗ اَلَاوَهِيَ الْقَلْبُیعنی جسم میں گوشت کاایک لوتھڑاہےاگر وہ صحیح رہے تو پورا جسم صحیح رہتا ہے اوراگر وہ خراب ہوجائے تو پوراجسم خراب ہوتاہے،سنو!وہ دل ہے۔“(1)جب معاملہ ایساہےتودل کی نگہداشت بہت ضروری ہے۔
اعلیٰ جواہر کا خزانہ:
دل بندے کےنفیس اور اعلیٰ جواہر کا خزانہ ہے، ان میں سے پہلا عقل اور سب سے عظیم تر مَعْرِفَتِ خداوندی ہے اور یہ دونوں جہان کی سعادت ہے۔ یہی دل علم کا مرکز ہے جس کے ذریعے بارگاہِ الٰہی میں بندے کو عزت وشرف حاصل ہوتا ہے ۔یونہی خالص نیت جس پرثواب کا مدار ہے اوربندوں کی باہمی فضیلت کا سبب بننے والے تمام پاکیزہ اخلاق کا تعلق بھی اسی دل سےہے۔پس ایسےخزانےکاحق بنتاہےکہ چوراورڈاکوسےاس کی حفاظت کی جائےاوراِسےمختلف اخلاقی خوبیوں سےاُجلاکیاجائےتاکہ ان جواہرتک کوئی میل وگندگی پہنچے نہ کوئی دشمن ان پر قبضہ کر سکے اوردشمن شیطان ہے جواس کے پیچھے پڑا ہے بلکہ وہ تو ابْنِ آدم کے دل سے چمٹا ہواہے ۔ پس الہام اور وسوسہ دونوں کی جگہ دل ہے اور فرشتہ اورشیطان دونوں بندے کواپنی طرف بلانے میں مشغول ہیں۔
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…بخاری،کتاب الایمان،باب فضل من استبرا لدینه،۱/۳۳،حدیث:۵۲