(2)…
وَاللہُ یَعْلَمُ مَا فِیۡ قُلُوۡبِکُمْ ؕ(پ۲۲،الاحزاب:۵۱)
ترجمۂ کنز الایمان:اور اللہجانتا ہے جو تم سب کے دلوں میں ہے۔
(3)…
اِنَّہٗ عَلِیۡمٌۢ بِذَاتِ الصُّدُوۡرِ ﴿۴۳﴾(پ۱۰،الانفال:۴۳)
ترجمۂ کنزالایمان:بےشک وہ دلوں کی بات جانتا ہے۔
حضور نبی اکرم،رسولِ مُحْتَشَمصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمکافرمان ہے:”اِنَّ اللہَ لَا يَنْظُرُ اِلٰی صُوَرِكُمْ وَاِنَّمَا يَنْظُرُ اِلٰی قُلُوبِكُمْ یعنیاللہ عَزَّ وَجَلَّتمہارے چہروں کو نہیں وہ تو تمہارے دلوں کو دیکھتا ہے۔“(1)
صاف چہرے اور میلے دل:
تعجب ہے اس شخص پر جواُس چہرے کا اہتمام کرتا ہے جس پر مخلوق کی نظر پڑتی ہے اور اسے میل کچیل وگندگی سے ممکنہ حد تک صاف ستھرا کرکے آراستہ کرتا ہےتاکہ لوگوں کو اس میں کوئی عیب نظر نہ آئے مگر وہ دل جس پر ربّ عَزَّ وَجَلَّنظر فرماتا ہے اس کا اہتمام نہیں کرتا ،حالانکہ اسے پاک صاف کر کے مزین کرنا چاہیے تھاکہاللہ عَزَّ وَجَلَّاس میں گناہوں کامیل اور کوئی آفت وعیب نہ دیکھے مگرافسوس! دل کو گندگی و غلاظت میں لت پت کر رکھا ہے۔اگر مخلوق اس کے دل کے کسی ایک عیب پر بھی مطلع ہو جائے تو اسے چھوڑ
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسلم،کتاب البر،باب تحریم ظلم...الخ،ص۱۳۷۸،حدیث:۲۵۶۴