Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
66 - 274
مت چھوڑو ورنہ تمہاری عزت خراب کر دے گی۔‘‘اور یہ بھی کہا گیا کہ’’زبان کی حفاظت کرو، نہ بولو نہ مصیبت میں پڑو کیونکہ مصیبتیں زبان کے سپرد  کر دی گئی ہیں۔‘‘
زبان کی حفاظت کیسے ہو؟
	زبان کی حفاظت کے لئےآخرت کی آفات اور انجام کو یاد کرناتمہارا سب سے بڑا مددگار ہے کیونکہ اگر تم حرام گفتگو کرو گے تو اس میں جہنم کا عذاب ہے جس کی تم طاقت نہیں رکھتے۔ مروی ہے کہ معراج کی رات حضور سرور کائنات صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے کچھ لوگوں کو مردار کھا تے دیکھا تو حضرت سیِّدُنا جبریل عَلَیْہِ السَّلَامسے پوچھا: یہ کون لوگ ہیں؟ عرض کی: یہ لوگوں کا گوشت کھایا (غیبت کیا )کرتے تھے۔(1)
	حضورنبی اکرم،نُوْرِمُجَسَّم صَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّمنےحضرت سیِّدُنامعاذ رَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےارشادفرمایا:باعمل حفاظ قرآن اورطالب علموں سےاپنی زبان کوروکےرکھو اور اپنی زبان سے لوگوں کی آبروریزی نہ کرو ورنہ تمہیں جہنم کے کتے پھاڑ ڈالیں گے۔(2)
دل کی ویرانی کاسبب:
	سیِّدُناابوقلابہرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتےہیں:”غیبت کےسبب دل ہدایت سےویران ہوجاتاہے۔“ہماللہ عَزَّ وَجَلَّ سےسوال کرتےہیں کہ وہ اپنےفَضْل سےہمیں اِس سےبچائے۔
	پھراگرتم جائزومباح گفتگوکروگےتوکراماًکاتبین کوایسی چیزلکھنےمیں مصروف کردو گے جس میں کوئی خیر اور فائدہ نہیں اور انسان پر لازم ہے کہ ان سے حیا کرے اور انہیں ایذا نہ دے۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…مسند امام احمد، مسند عبد الله بن عباس ،۱/۵۵۳، حدیث:۲۳۲۴
2…الترغيب والترهيب،الترھیب من الریاء...الخ،۱/۵۰،حدیث:۵۹