Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
65 - 274
رہی تو ہم بھی سیدھے رہیں گے اور اگر تو ٹیڑھی ہو گئی تو ہم بھی ٹیڑھے ہو جائیں گے۔ (1)
	یہ اس لئےکہ زبان کابولناانسانی اعضاء میں اثرکرتاہے،اچھابولنےپرتوفیق ملتی اوربُرا بولنےپررسوائی ہوتی ہے۔یونہی زبان کی حفاظت میں وقت کی بھی حفاظت ہے کیونکہ اکثر اوقات انسان ذکرِالٰہی کے علاوہ جو گفتگو کرتا ہے وہ لغووفضول  ہوتی ہے جس سے وقت ضائع ہوتا ہے ۔
	حضرت سیِّدُناحسان بن ابو سنان عَلَیْہِ رَحْمَۃُ الْمَنَّان ایک گھر کے پاس سے گزرے تواسے دیکھ کر بولے: یہ کب بنایا گیا؟ پھر اپنے نفس کی طرف متوجہ ہو کر فرمایا: اےدھوکےمیں پڑےنفس!تومجھ سےبے کار چیزوں کے بارے میں پوچھتا ہے۔ پھر آپ نے ایک سال روزے رکھ کر اپنے نفس کوسزادی۔
اعمالِ صالحہ کی حفاظت:
	یوں ہی زبان کی حفاظت میں اعمالِ صالحہ کی بھی حفاظت ہے کیونکہ جو زبان کی حفاظت نہیں کرتا وہ زیادہ بولتا ہے اور لامحالہ لوگوں کی غیبت میں مبتلا ہو جاتا ہے اور غیبت نیکیوں کو بربادکردینےوالی بجلی ہےکیونکہ غیبت کرنےوالامنجنیق(پتھرپھینکنے کا آلہ)نصب کرنےوالے کی طرح ہےکہ یہ غیبت کرکےاپنی نیکیاں  مشرق ومغرب اورشمال وجنوب میں پھینکتارہتاہے۔
	حضرت سیِّدُنا عبْدُاللہ بن مبارک رَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہنے فرمایا: اگر میں غیبت کرتا تو اپنی ماں کی کرتا کیونکہ وہ میری نیکیوں کی سب سے زیادہ حق دار ہے۔
عزت خراب ہونے سےبچاؤ:
	زبان کی حفاظت میں دنیاوی آفات سےبھی حفاظت ہے۔منقول ہےکہ’’زبان کوآزاد 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی حفظ اللسان،۴/۱۸۳،حدیث:۲۴۱۵