Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
64 - 274
اورکسی  مصیبت میں مبتلا ہونے کا خطرہ رہتا ہے حتّٰی کہ بعض اوقات وہ کسی بڑی آفت میں پھنس جاتاہے۔پس  اگرتم لایعنی(فضول)باتوں سےاپنے کانوں کی حفاظت کروگےتوان پریشانیوں سےراحت میں رہوگے۔عقلمندکواس میں غورکرناچاہیےاورتوفیق دینےوالااللہ  عَزَّ وَجَلَّ ہی ہے۔
زبان کی حفاظت:
	پھرتم پرزبان کوقابومیں رکھ کراس کی  حفاظت کرنابھی لازم ہےکیونکہ تمام اعضاء میں سب سے زیادہ سرکشی و ہٹ دھرمی اور فساد و دشمنی اسی میں ہے یہی وجہ ہے کہ جب بارگاہِ رسالت میں عرض کی گئی کہیارسولَاللہصَلَّی اللہُ تَعَالٰی عَلَیْہِ وَاٰلِہٖ وَسَلَّم!آپ کو مجھ پر سب سے زیادہ خوف کس چیزکاہے؟توحضورنبی پاک،صاحِبِ لولاکصَلَّی اللہُ تَعَالٰی  عَلَیْہِ  وَاٰلِہٖ وَسَلَّم نے اپنی مبارک زبان پکڑکر فرمایا:” اس چیزکا۔‘‘(1)
	ایک بزرگرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہفرماتے ہیں:”میرا نَفْس شدید گرمی میں روزے کا بوجھ اُٹھانے کو تیار ہے مگر فضول گوئی کا کوئی کلمہ(بات) چھوڑنے کو تیار نہیں۔“ جب معاملہ یہ ہے تو تم پر اس کی انتہائی حفاظت اور خوب کوشش کرنا ضروری ہے۔
	حضرت سیِّدُنامالک بن دینارعَلَیْہِ رَحْمَۃُ اللہِ الْغَفَّارفرماتےہیں:”جب تم اپنےدل میں سختی، بدن اوردین میں سُستی اوررزق میں تنگی دیکھوتوسمجھ لوکہ تم نےضرورفضول گفتگوکی  ہے۔“
زبان سیدھی تو سب سیدھے:
	حضرت سیِّدُناابوسعیدخُدریرَضِیَ اللہُ تَعَالٰی عَنْہسےمروی ہےکہ جب آدمی صبح کرتا ہےتو تمام اعضاء زبان سےکہتےہیں:ہم تجھےخداکاواسطہ دیتےہیں کہ سیدھی رہناکیونکہ اگرتوسیدھی 
مـــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــــدینـــہ
…ترمذی،کتاب الزھد،باب ماجاء فی حفظ اللسان،۴/۱۸۴،حدیث:۲۴۱۸