Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
63 - 274
حاضر ہونے والوں کوڈرایا گیا ہے۔
سب سے بڑی عزت:
	حاصل کلام یہ ہے کہ جو لایعنی چیزوں کی طرف نظر نہیں کرے گا وہ عبادت کی لذّت اور مناجات کی حلاوت پائے گا اور دل میں ایسی صفائی پائے گا جو اس سے پہلے کبھی نہ ملی ہو گی۔ یہ مجرب نسخہ ہے اسے وہی جان سکتا ہے جو اس پر کما حقہ عمل کرتا ہے۔پھر یہ کہ اگر انسان اپنے اعضاء پریوں غور کرے کہ  ہر عضو کو جنت کی کون سی لذت ملے گی تو وہ آنکھ کو سب سے اعلیٰ دیکھے گا لہٰذاآنکھ پر کامل توجہ دینے کی ضرورت ہے اور یہ آنکھ کا سب سے اعلیٰ ہونا دیدار باری تعالیٰ کی وجہ سے ہے اور دونوں جہان میں اس سے بڑی اور عظیم کوئی عزت نہیں پس جس چیز کے لئے ایسی عزت وبزرگی ہو اسے بچانا، اس کی حفاظت کرنا اور اُسےمعزز ومُکَرَّم رکھنالازم ہے ۔
کان  کی حفاظت:
	تمہارا دوسرا عضو کان ہے جس کی حفاظت کرنا اور بے ہودہ وفضول بات سننے سے اسے بچانا ضروری ہے  کیونکہ سننے والا بولنے والے کا شریک ہوتا ہےاور سننا دل میں خیالات و وسوسے اور بدن میں اثرات پیدا کرتا ہے پھر انسان جو کچھ سنتا ہے وہ اس کے دل میں ایسے ہو جاتاہے جیسے پیٹ میں جانے والا کھاناکہ وہ نقصان دہ بھی ہوتا ہے اور نفع بخش بھی اور اُس میں غذابھی ہوتی ہےاورزہربھی بلکہ  کلام کااثر زیادہ  اوردیر پا ہوتاہےکیونکہ کھانا تونیند وغیرہ کےسبب معدے سے زائل ہو جاتا ہے اور اگر اس کا کوئی اثر یا بیماری رہ بھی جائے تو وہ دوا سے ختم ہو جاتی ہے جبکہ دل میں داخل  ہونے والا کلام بعض اوقات پوری زندگی دل میں رہتاہےاوربھولتانہیں اوراس کی وجہ سےدل میں خیالات ووسوسےپیداہوتےرہتےہیں