Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
62 - 274
وَ یَحْفَظُوۡا فُرُوۡجَہُمْ ؕ ذٰلِکَ اَزْکٰی لَہُمْ ؕ اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ﴿۳۰﴾(پ۱۸،النور:۳۰)
نگاہیں کچھ نیچی رکھیں اور اپنی شرمگاہوں کی حفاظت کریں یہ اُن کےلیے بہت ستھرا ہے بے شک اللہ کو اُن کے کاموں کی خبر ہے۔
	یہاں نگاہیں نیچی رکھنے کا حکم دیا گیا ہے اور بندے پر لازم ہےکہ اپنے  مالک کے حکم پر عمل کرےورنہ وہ بے ادب قرار پائے گااور اُسے روک  کر مالک کی بارگاہ میں حاضری کی اجازت نہیں دی جائے گی اور آیت طیبہ میں یہ جو فرمایا گیا:’’ ذٰلِکَ اَزْکٰی ‘‘یہ ان  کے لئے ستھرا ہے یعنی ان کے دلوں کو ستھرا کرنےاوران کی بھلائی کو بڑھانے  والا ہے۔ اس فرمان سےآگاہ فرمایاگیاکہ نگاہوں کو نیچا رکھنے میں دل کی پاکیزگی اور عبادت وبھلائی کی کثرت ہے۔ کیونکہ اگر تم اپنی نگاہ کو نہیں روکو گے اور اس کی لگام ڈھیلی چھوڑ دو گے تو وہ لایعنی چیزوں کو دیکھے گی اور اگر اللہ عَزَّ وَجَلَّکی رحمت شامِلِ حال نہ ہوئی تو  تم ہلاک ہو جاؤ گے۔اس لئے کہ یا تو تم حرام کو دیکھو گے تو گناہ میں پڑ جاؤ گے یا پھر مباح کی طرف نظر کرو گے تو تمہارا دل اس میں مشغول ہو جائے گااور تمہیں اس کے سبب وسوسے اور خیالات آئیں گے،بالآخر تمہارا دل بھلائی سے غافل ہو کر انہی میں لگا رہے گا۔
دل میں شہوت کا بیجبونے والی:
	حضرت سیِّدُناعیسٰی عَلَیْہِ السَّلَامسے مروی ہے کہ ’’اپنی نظر کی حفاظت کرو کیونکہ یہ دل میں شہوت کابیج بوتی ہےاورنظر ڈالنےوالےکےلئےاس کافتنہ کافی ہے۔‘‘لہٰذااگرتم نظر نیچی رکھو گے تو سینہ صاف اور دل کثیر وسوسوں  سےخالی ہو کر پُرسکون ہو جائے گا، نفس کثیر آفات سےمحفوظ ہوگااورتم نیکیوں میں اضافہ کروگے۔نیزآیت مبارَکہ کےاس حصے اِنَّ اللہَ خَبِیۡرٌۢ بِمَا یَصْنَعُوۡنَ ﴿۳۰﴾یعنی بےشکاللہکوان کےکاموں کی خبرہے۔“میں بارگاہِ الٰہی میں