انہیں اس کی نصیحت فرماتاکیونکہ اس کی کمالِ حکمت ووُسْعَتِ رحمت کایہی تقاضا ہے۔ جب اس نےاولین وآخرین کوتقوٰی کی نصیحت فرمائی ہےتومعلوم ہواکہ اس انتہاسےآگےبڑھا جاسکتاہےنہ اس سےکم پرانحصارکیاجاسکتاہے۔
تقوٰی کی وضاحت:
کبھی تقوٰی کفر سے بچنے کو کہتے ہیں،کبھی گناہ سے اجتناب پر اس کا اطلاق ہوتا ہے اور کبھی اللہ عَزَّوَجَلَّ کے سوا ہر چیز سے منہ موڑ لینے کو تقوٰی کہا جاتا ہے مگر یہ اللہ عَزَّ وَجَلَّکے خاصُ الخاص بندوں کا تقوٰی ہوتا ہے۔ بعض علما فرماتے ہیں: ہروہ شے چھوڑ دینا تقوٰی ہے جس سےتمہیں اپنےدین میں نقصان کاخوف ہوجیسے بخارکامریض کھانے،پینےاورپھل وغیرہ میں سے اپنے لئے نقصان دہ چیز کو چھوڑ دیتا ہے۔تقوٰی کی ایک وضاحت یہ بھی ہے کہ احکامات کو بجالانے اور ممنوعات سے بچنے کا نام تقوٰی ہے۔ بہرحال تقوٰی تمہیں توبہ، عبادت، خشیت اور کامیابی سے ہمکنار کر دے گا ۔ فرمانِ باری تعالیٰ ہے:
وَمَنۡ یُّطِعِ اللہَ وَ رَسُوۡلَہٗ وَ یَخْشَ اللہَ وَ یَتَّقْہِ فَاُولٰٓئِکَ ہُمُ الْفَآئِزُوۡنَ﴿۵۲﴾(پ۱۸النور:۵۲)
ترجمۂ کنزالایمان:اورجوحکم مانےاللہاوراس کے رسول کااوراللہسےڈرےاورپرہیزگاری کرے تو یہی لوگ کامیاب ہیں۔
پھر یہ کہ جن چیزوں سےنقصان کااندیشہ ہے وہ حرام، گناہ اور زائداز ضرورت حلال کا استعمال ہے کیونکہ ضرورت سے زائد حلال میں مشغول و منہمک ہونا بندے کو حرام کی جانب لے جاتا اور گناہوں پر اُبھارتا ہے اورایسا نفس کے شر اور اس کی سرکشی اورخواہش اور اس کی نافرمانی کی عادت کی وجہ سے ہوتا ہے۔لہٰذا جو اپنے دینی معاملے میں نقصان سے محفوظ رہنا چاہتا ہے وہ اس خطرے سے یوں بچے کہ ضرورت سے زائد حلال کواس ڈر سے چھوڑ دے کہ