کروگےتوخوش ہوگااورسرکشی کرےگااوراگربھوکارکھوگےتوچیخےچلائےگا،یہ بالکل گدھے کی طرح ہےکہ اگر اس کا پیٹ بھر دو تو لوگوں کو روندتا ہے اور اگر بھوکا ہو تو رینکتا ہے۔
نفس کو تقوٰی کی لگام دو:
اگرتم نفس کوبڑے سےبڑا واسطہ دو، اس پر موت،قبر اور جنت ودوزخ پیش کرو تب بھی وہ اپنی خواہش سےبازنہیں آئےگا،پھراگرتم اسےایک روٹی سےروکوتاکہ وہ پُرسکون ہو جائے اور اپنی خواہش کو چھوڑ دے تو تمہیں اس کی کمینگی اور جہالت کا پتا چل جائے گا۔ لہٰذاتم اس سےہرگزغافل مت ہوناکیونکہ وہ بُرائی کاحکم دیتاہےاورایک بات یہ بھی ہے کہ وہ تمہارے دونوں پہلوؤں کے درمیان ہے، نہ تم اسے ہلاک کر سکتے ہو نہ مکمل طور پرخود سےجُداکرسکتےہواورنہ ہی اس کی طرف سےپہنچنےوالےنقصان پرصبرکرسکتےہولہٰذا تمہیں شدید علاج اور باریک بینی کی ضرورت ہے یوں کہ تم اسے تقوٰی وورع کی لگام دو اور اسے شہوات سے روکو حتّٰی کہ وہ عاجز ہو جائے اور اسے لگام پڑ جائے،کیونکہ اَڑیل چوپائے کو جب قیدکرکےچاراکم دیاجائےتووہ نرم ہوجاتاہے۔پھرتم نفس پرعبادات کابوجھ ڈالو کیونکہ جب گدھے پر بوجھ بڑھا دیا جائے اور ساتھ ہی اسے چارا بھی تھوڑا دیا جائے تو وہ اپنی شیخی چھوڑ کر قابو میں آجاتا ہے۔
نیزتم پرلازم ہےکہاللہ عَزَّ وَجَلَّسےمددطلب کرواوراس کی بارگاہ میں التجاکروکہ وہ نفس کےخلاف تمہاری مددفرمائے۔ورنہ اس کےسواکوئی بچانےوالانہیں کیونکہاللہ عَزَّ وَجَلَّ ارشاد فرماتا ہے:
اِنَّ النَّفْسَ لَاَمَّارَۃٌۢ بِالسُّوۡٓءِ اِلَّامَا رَحِمَ رَبِّیۡ ؕ(پ۱۳،یوسف:۵۳)
ترجمۂ کنز الایمان:بےشک نفس توبرائی کا بڑا حکم دینےوالاہےمگرجس پرمیرارب رحم کرے۔