Brailvi Books

تَنْبِیْہُ الْغَافِلِیْن مُخْتَصَرُمِنْہَاجِ الْعَابِدِیْن ترجمہ بنام مختصرمنہاجُ العابِدین
55 - 274
سمندر میں ڈال دیا اور وہ ہمیشہ ہمیشہ کے لئے غرق ہو گیا۔ دیکھو! اس  کی نافرمانی کے وقت دنیا تھی نہ مخلوق اور  نہ ہی شیطان بلکہ اکیلا نفس ہی تھا جس نے اسے تکبُّر میں مبتلا کیا او راُس نے وہ کیا جو کیا ۔
نفس نہ ہوتا تو سلامتی رہتی:
	حضرت سیِّدُناآدم وحواعَلَیْہِمَاالسَّلَامسےجولغزش ہوئی اس میں انہیں خواہش ہی نے ڈالاحتّٰی  کہ شیطان کے کہنے سےوہ بے صاف وبے خبری کے معاملے میں پڑگئے اور انہوں نےاس ممنوعہ درخت(گندم یا انگور)سےکھالیاجس کےسبب جوارِالٰہی اور جنتی ٹھکانے سے  علیٰحدہ ہوکراس فانی و حقیر،کھوٹی اور ہلاکت خیز دنیا کی طرف اُتار دیئے گئےپھر ہابیل وقابیل کا واقعہ ہی دیکھ لو اس میں بھی حسد سبب بناتھا(کہ قابیل نےحسدکےسبب اپنےبھائی حضرت ہابیلرَحْمَۃُ اللہِ تَعَالٰی عَلَیْہکوقتل کردیا)یونہی آگےچلتےجاؤتوقیامت تک مخلوق میں تم جوبھی فتنہ وآزمائش،گمراہی،گناہ اورذِلَّت ورُسوائی دیکھو گے اس کا سبب نفس اور اس کی خواہش  ہی نظر آئے گی۔اگر یہ نفس نہ ہوتاتو مخلوق سلامتی اور خیر میں ہی رہتی۔ جب یہ دشمن اس قدر نقصان پہنچانےوالاہےتوعقلمندپر لازم ہے کہ اس سے بچاؤ کا اہتمام کرے۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّہی اپنےفضل وکرم سے توفیق وہدایت دینے والا ہے۔
نفس گدھے کی طرح ہے:
	نفس کے بُرا ہونے کے لئے تمہیں یہی کافی ہے جو تم اس کے حالات، اس کے بُرے ارادے اور خلافِ شرع اُمور اختیار کرنے کا مشاہدہ کر رہے ہو۔یہ شہوت کی حالت میں چوپایہ، غصے کی حالت میں درندہ اور مصیبت کے وقت بچہ بن جاتا ہے، آرام وآرائش کے وقت وہ تمہیں فرعون لگےگا،بھوک کےوقت پاگل اورسیرہوتوسرکش بن جاتاہے،اگرتم اسےسیر