وَعْدَہٗ (پ۲۴،الزمر:۷۴) کو جس نے اپنا وعدہ ہم سے سچا کیا ۔
اللہ عَزَّ وَجَلَّتم پر رحم فرمائے! جاگ جاؤ اور تمام افعال واحوال کو بیان کردہ صورتوں پرقیاس کرواوراللہ عَزَّ وَجَلَّسےمدداوراس کی پناہ مانگو کیونکہ معاملہ اسی کے قبضے میں ہے اور توفیق بھی اسی کی جانب سے ہے اور نیکی کرنے اور گناہ سے بچنے کی طاقت بلند وبرتر اللہ عَزَّ وَجَلَّ ہی کی جانب سے ہے۔
چوتھی رکاوٹ:نفس
تم پرلازم ہے کہ بُرائی کا حکم دینے والے نفس سے بھی بچو۔ یہ سب سے زیادہ نقصان دہ دشمن ہے اور اس کی آفت بھی بہت سخت ہے، اس کا علاج سب سے مشکل ہے، اس کی بیماری انتہائی خطرناک اوردواانتہائی دشوارہے۔اس لئےکہ یہ اندرکاچورہےاورجوگھرکےاندرکا چورہو اس سے بچنا مشکل اور اس کا نقصان زیادہ ہوتا ہے اور نفس انسان کا محبوب بھی ہوتا ہے اور محبوب کے معاملے میں انسان ویسے ہی اندھا ہوتا ہے کیونکہ محب کو محبوب کے عیوب نظر نہیں آتے لہٰذا جب انسان اپنے ہر عیب کوخوبی سمجھنےلگےاوراپنےدشمن اورخودکونقصان پہنچانےوالےعیبوں کوجاننےکی کوشش نہ کرےتووہ اسےذلت وہلاکت میں ڈال دیتےہیں۔
نفس کی کارستانیاں:
اے بندے!اگر تم غور کرو گے تو تمہیں معلوم ہو جائے گا کہ مخلوق کی ابتدا سے قیامت تک جوبھی ذلت ورُسوائی، ہلاکت وبربادی اورفتنہ وفسادہےاس کاسبب نفس ہی ہے جن میں کچھ تو اکیلے نفس نے کیا اور کچھ اس کے تعاوُن،شرکت اور کوشش سے ہوا ۔ اللہ عَزَّ وَجَلَّکی سب سے پہلی نافرمانی ابلیس نے کی، تقدیر کی سبقت کےبعداس کےتکبُّرکاسبب بھی خواہِشِ نفس ہی تھی جس نےاسے80ہزارسال عبادت کرنے کے باوجود گمراہی کے